
خلیج اردو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے پیش کی گئی شرائط مسترد کرتے ہوئے اسے “اکنامک نیوکلیئر ہتھیار” قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو کسی قسم کی فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ایران کا نظریہ معاہدے میں بڑی رکاوٹ ہے۔
مارکو روبیو کے مطابق ایران اندرونی مسائل کے باعث وقتی ریلیف چاہتا ہے، تاہم اگر معاہدہ نہ ہوا تو آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کو کسی قیمت پر جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ ایران میں پیٹرول کی قلت پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق ایرانی سمندری راستوں کی ناکہ بندی کے باعث تیل کی صنعت متاثر ہو رہی ہے اور پیداوار رکنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی عالمی توانائی سپلائی، سمندری تجارت اور خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ سفارتی حل کی گنجائش تاحال موجود ہے۔






