
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں تعلیمی نظام ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے جہاں اسکولوں میں لائیو آن لائن کلاسز کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے اور طلبہ کی تقریباً مکمل واپسی کیمپسز میں ہو چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں فاصلاتی اور ہائبرڈ نظام کے بعد اب روایتی کلاس روم تعلیم کو دوبارہ مکمل طور پر بحال کیا جا رہا ہے۔
اسکول انتظامیہ کے مطابق والدین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے فزیکل تعلیم کو ترجیح دی ہے، جس کے باعث آن لائن کلاسز کی ضرورت کم ہو گئی۔ کئی اسکولوں نے والدین کو باضابطہ آگاہ کر دیا ہے کہ اب لائیو آن لائن کلاسز فراہم نہیں کی جائیں گی۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیمپس میں تعلیم نہ صرف تعلیمی کارکردگی بلکہ طلبہ کی سماجی اور ذہنی نشوونما کیلئے بھی زیادہ مؤثر ہے۔ اسی بنیاد پر اسکولوں نے متوازی آن لائن نظام کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق اگرچہ معمول کی آن لائن کلاسز ختم کی جا رہی ہیں، تاہم مخصوص حالات جیسے بیماری یا سفر کی صورت میں محدود فاصلاتی تعلیم کی سہولت بدستور فراہم کی جائے گی تاکہ طلبہ کی تعلیم کا تسلسل برقرار رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بیشتر اسکولوں میں حاضری 90 سے 96 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو کہ معمول کے مطابق سطح ہے، جبکہ ریگولیٹری ادارے بھی اسکولوں کی صورتحال اور حاضری کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور تعلیمی نظام کی بحالی کی علامت ہے، جبکہ آئندہ ہائبرڈ ماڈل صرف ہنگامی حالات تک محدود رہنے کا امکان ہے۔







