متحدہ عرب امارات

ایران کے حملوں کے بعد خلیجی اتحاد کی ضرورت، انور قرقاش کا متحد اور مضبوط مؤقف اپنانے کا مطالبہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر برائے سفارتی امور انور قرقاش نے ایران کی جانب سے کویت اور بحرین پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایک "مضبوط، متحد اور مربوط” مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔

انور قرقاش کا یہ بیان 3 جون کو کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مسافر ٹرمینل پر ہونے والے ڈرون حملے کے بعد سامنے آیا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کرنا پڑا۔

متحدہ عرب امارات نے بھی کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

انور قرقاش نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ "کویت اور بحرین کے خلاف ایران کی بار بار جارحیت کے پیش نظر ایک مضبوط، متحد اور مربوط خلیجی مؤقف ناگزیر ہو چکا ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی خلیجی ریاست ایسے خطرات کا تنہا سامنا نہ کرے کیونکہ عرب خلیجی ممالک کی سلامتی، مفادات اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جارحیت کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ پورے خلیجی خطے کے خلاف تصور کی جانی چاہیے۔

قرقاش نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ بحران کے دوران اگرچہ خلیجی ممالک نے ایک دوسرے کی لاجسٹک معاونت کی، تاہم سیاسی اور عسکری سطح پر تعاون مطلوبہ حد تک مضبوط نہیں تھا۔

انہوں نے ماضی میں منعقدہ ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خطے کو اپنے بیانیے میں حقیقت پسندی لانا ہوگی اور موجودہ خطرات کے پیش نظر زیادہ مؤثر مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ خطے کے تنازعات کا پائیدار حل سیاسی مذاکرات اور سفارتی ذرائع میں ہے۔ انور قرقاش کے مطابق عرب اور ایران کے تعلقات محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button