
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے کم از کم عمر 15 سال مقرر کر دی ہے۔ نئے حکومتی فیصلے کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے، استعمال کرنے یا چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قوانین پر عملدرآمد کے لیے 12 ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔
چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر جنرل حنادی الیافعی نے کہا ہے کہ والدین اس تبدیلی پر گھبرانے یا سخت ردعمل دینے کے بجائے بچوں کو بتدریج تیار کریں۔ ان کے مطابق 12 ماہ کا عبوری دور خاندانوں کے لیے منصوبہ بندی اور آگاہی کا موقع ہے۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے بچوں کے پہلے سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس موجود ہیں تو وہ بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں، اکاؤنٹس کا جائزہ لیں اور قانون کے نفاذ سے پہلے مرحلہ وار استعمال کم کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اچانک پابندی یا اکاؤنٹس ضبط کرنے سے بچوں کی مزاحمت بڑھ سکتی ہے۔
حنادی الیافعی کے مطابق کم عمر بچے نامناسب مواد، اجنبی افراد سے رابطوں، آن لائن استحصال، خطرناک رجحانات، سماجی دباؤ اور ذاتی معلومات کے غلط استعمال جیسے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما ابھی اس مرحلے پر نہیں ہوتی کہ وہ کھلے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خطرات کا مکمل ادراک کر سکیں۔
نئے قانون کے تحت صرف عمر ظاہر کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے لیے مؤثر نظام متعارف کرانا ہوں گے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جعلی عمر، وی پی این، بڑے بہن بھائیوں کے اکاؤنٹس یا مشترکہ ڈیوائسز کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی کوششیں اب بھی ممکن ہیں، اس لیے والدین کا کردار انتہائی اہم رہے گا۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے بچوں کو نامناسب مواد، خطرناک آن لائن چیلنجز اور اجنبی افراد سے غیر محفوظ رابطوں سے بچانے میں مدد ملے گی، جبکہ 15 سال کی عمر مکمل کرنے والے صارفین کے لیے بھی اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔







