
خلیج اردو
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم قیمت ڈرونز اور خودکار حملہ آور فضائی نظاموں کے تیزی سے پھیلاؤ نے دنیا بھر کی افواج کو اپنی فضائی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ابوظبی میں قائم دفاعی اور ٹیکنالوجی گروپ ایج کے بین الاقوامی کاروبار کے سینئر نائب صدر مائلز چیمبرز کے مطابق سستے ڈرونز کے خلاف مہنگے میزائل استعمال کرنا طویل مدت میں معاشی طور پر مؤثر حکمت عملی نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تنازعات نے ثابت کیا ہے کہ فضائی خطرات اب زیادہ پیچیدہ، منتشر اور غیر متوازن نوعیت کے ہو چکے ہیں۔ کم لاگت ڈرونز، گھومتے ہوئے حملہ آور ہتھیار، جھنڈ کی صورت میں حملہ کرنے والے نظام اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودمختار پلیٹ فارم دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے نئے چیلنج بن گئے ہیں۔
چیمبرز کے مطابق یہ ڈرونز کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں، ان کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے اور یہ بیک وقت متعدد اہداف پر حملے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے دفاعی نظاموں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے مختلف ممالک اب مربوط انسدادِ ڈرون نظاموں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جن میں ریڈار، برقی بصری سینسرز، الیکٹرانک جنگی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور کم لاگت روک تھام کے نظام شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطرات صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہے بلکہ ہوائی اڈے، بندرگاہیں، توانائی کے مراکز، عوامی مقامات اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے بھی کم قیمت ڈرون حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔
ایج کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت خطرات کی شناخت، درجہ بندی، نگرانی اور فوری ردعمل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ سازی میں انسانی نگرانی اب بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کی 80 فیصد سے زائد مصنوعات متحدہ عرب امارات میں تیار کی جاتی ہیں اور ملک میں جدید دفاعی صنعت کے فروغ کے لیے 170 سے زیادہ پیداواری اور تحقیقی مراکز کام کر رہے ہیں۔
ایج نے انڈونیشیا، کویت، انگولا اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے حاصل کیے ہیں، جبکہ امریکی دفاعی کمپنی اینڈورل انڈسٹریز کے ساتھ مشترکہ منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کے خودکار فضائی نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی ٹیکنالوجی تیار کی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگیں مصنوعی ذہانت، سائبر حملوں اور خودکار ہتھیاروں پر زیادہ انحصار کریں گی، جس کے باعث فضائی دفاعی نظاموں کو بھی تیزی سے جدید بنایا جا رہا ہے۔







