
خلیج اردو
امریکی سینیٹ نے منگل کے روز ایک اہم قرارداد منظور کر لی جس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ قرارداد کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 48 ووٹ پڑے۔
یہ قرارداد اس ماہ کے آغاز میں ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی تھی، جس کے بعد پہلی مرتبہ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو جاری فوجی کارروائی ختم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اگرچہ ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی قانونی حیثیت ابھی غیر یقینی ہے، تاہم اسے صدر ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ریپبلکن ارکان کی ایک تعداد بھی ایران جنگ کے معاملے پر صدر سے اختلاف کرتی نظر آئی ہے۔
خبر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ کانگریس میں منظور ہونے والی یہ قرارداد صدر پر دباؤ بڑھا سکتی ہے کہ وہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں بھی دوبارہ فوجی کارروائی شروع نہ کریں۔
رائٹرز اور ایپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف ہر چار میں سے ایک امریکی شہری سمجھتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اپنی لاگت کے لحاظ سے قابلِ جواز تھی، جبکہ اکثریت کو خدشہ ہے کہ تہران کے ساتھ جنگ بندی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے گی۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ 1983 میں امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ آیا ایسی قرارداد صدر کے دستخط کے بغیر قانونی طور پر نافذ ہو سکتی ہے یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس پہلے ہی وار پاورز ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے چکا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکی سیاسی قیادت میں اختلافات بڑھ رہے ہیں اور کانگریس خارجہ و دفاعی پالیسی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔







