متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں کیفے، ہوٹلز اور مالز میں میوزک چلانے پر لائسنس فیس عائد، وصولی دسمبر سے شروع ہوگی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ معیشت و سیاحت نے کمرشل مقامات پر موسیقی چلانے کے لیے نئے قواعد جاری کرتے ہوئے لائسنس فیس متعارف کرادی ہے۔ نئے نظام کے تحت فیس کی وصولی دسمبر 2026 سے شروع ہوگی۔

’کلیکٹو مینجمنٹ اِن میوزک گائیڈ‘ کے تحت ریسٹورنٹس، کیفے، ہوٹلز، شاپنگ مالز، فٹنس سینٹرز، ایئرلائنز، ریڈیو اسٹیشنز، ٹی وی چینلز، کنسرٹس اور دیگر تقریبات میں کمرشل طور پر موسیقی کے استعمال پر فیس عائد ہوگی۔

وزارتی قرارداد نمبر 136 برائے 2026 کے تحت یہ فیس وزارت سے لائسنس یافتہ دو ادارے، ایمریٹس میوزک رائٹس ایسوسی ایشن اور میوزک نیشن وصول کریں گے۔ یہ ادارے موسیقاروں، گیت نگاروں، گلوکاروں، سازندوں، ریکارڈ پروڈیوسرز اور میوزک پبلشرز کے حقوق کا انتظام کرتے ہیں۔

کاروباری اداروں کو جاری کیے جانے والے میوزک لائسنس کی مدت ایک سال ہوگی جسے بعد میں تجدید کرایا جاسکے گا۔ فیس کا تعین موسیقی کے استعمال کی نوعیت اور کاروبار کے حجم کے مطابق مختلف کیٹیگریز میں کیا جائے گا۔

تعلیمی اور اکیڈمک اداروں، سرکاری اداروں، قومی تقریبات اور ذاتی و غیر تجارتی تقریبات کو اس فیس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت مستقبل میں مزید کیٹیگریز کو بھی فیس سے مستثنیٰ قرار دے سکتی ہے۔

وزیرِ معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے میوزک اور تخلیقی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی گائیڈ ملک میں کاپی رائٹ اور متعلقہ حقوق کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دینے کی جانب اہم قدم ہے اور یہ یو اے ای وژن 2031 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

نئے نظام کا مقصد کاپی رائٹ کی خلاف ورزیوں میں کمی لانا، لائسنس فیس اور وصولی کے طریقہ کار کو یکساں بنانا اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق حقوق کے استعمال کی نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

موسیقاروں کے لیے ثقافتی فنڈ

نئی گائیڈ کے تحت ’کلچرل سپورٹ فنڈ اِن دی فیلڈ آف میوزک‘ بھی قائم کیا گیا ہے۔ یہ فنڈ موسیقی کی تخلیق، پروڈکشن، تقسیم اور لائیو پرفارمنس کے لیے مالی، تکنیکی اور فنی معاونت فراہم کرے گا۔

فنڈ کا مقصد نئے اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس میں بچے، نوجوان اور مخصوص صلاحیتوں کے حامل افراد بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اماراتی موسیقی کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے برآمدی معاونت، ثقافتی تبادلے اور بین الاقوامی میوزک فیسٹیولز میں شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

وزارت کے مطابق مجموعی طور پر وصول کی جانے والی فیس کا 10 فیصد اس ثقافتی فنڈ میں مختص کیا جائے گا۔ فنڈ کی نگرانی وزارتِ معیشت و سیاحت اور وزارتِ ثقافت کی مشترکہ کمیٹی کرے گی جبکہ فیس وصول کرنے والے ادارے فنڈ کے لیے مختص رقم کا الگ بینک اکاؤنٹ رکھیں گے۔

نگرانی اور شکایات کا نظام

وزارت لائسنس یافتہ اداروں کی نگرانی کرے گی تاکہ یو اے ای کے کاپی رائٹ اور متعلقہ حقوق کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے فیلڈ انسپیکشنز کے علاوہ مالی اور تکنیکی ریکارڈز کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

حقوق رکھنے والے افراد اور دیگر متعلقہ فریقین کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کے بارے میں شکایات بھی وزارت کو جمع کرائی جاسکیں گی۔ وزارت تنازعات کو باہمی طور پر حل کرنے کی کوشش کرے گی اور ضرورت پڑنے پر قانونی یا انتظامی کارروائی بھی کرسکے گی۔

وزارت کو ضرورت یا عوامی مفاد کے تحت لائسنس کی شرائط میں ترمیم کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا اور لائسنس یافتہ اداروں کے لیے نئی شرائط پر فوری عمل کرنا لازمی ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button