
خلیج اردو
شارجہ سے کراچی جانے والے کے2 ایئرویز کے کارگو طیارے کو رابطہ منقطع ہونے سے کچھ دیر قبل نیویگیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد اسے کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول کی رہنمائی فراہم کی گئی، تاہم بعد ازاں بحیرۂ عرب کے اوپر طیارے سے ریڈار اور ریڈیو رابطہ منقطع ہو گیا۔
فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ ریڈار24 کے مطابق ابتدائی ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ پہلے نیچے آیا، پھر دوبارہ بلندی حاصل کی، جس کے بعد اچانک انتہائی تیزی سے نیچے گرنا شروع ہوا۔ آخری موصول ہونے والے ڈیٹا میں طیارہ سطح سمندر سے تقریباً 1100 فٹ کی بلندی پر تھا اور اس کی عمودی رفتار منفی 22 ہزار 400 فٹ فی منٹ ریکارڈ کی گئی۔
لندن میں قائم اسٹریٹیجک ایرو ریسرچ کے چیف تجزیہ کار ساج احمد کے مطابق حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کی بازیابی انتہائی اہم ہوگی۔ ان کے مطابق ابتدائی شواہد سے اچانک کنٹرول ختم ہونے کا تاثر ملتا ہے، تاہم مکینیکل خرابی یا کارگو اپنی جگہ سے سرکنے کے امکانات بھی رد نہیں کیے جا سکتے۔
ماہرین کے مطابق جدید طیاروں میں نیویگیشن کا نظام صرف ایک ڈیوائس پر مشتمل نہیں ہوتا بلکہ سیٹلائٹ نیویگیشن، انرشیل ریفرنس سسٹمز، ریڈیو نیویگیشن، فلائٹ مینجمنٹ کمپیوٹر، کاک پٹ ڈسپلے اور ایئر ٹریفک کنٹرول سمیت کئی نظام مل کر کام کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں جی این ایس ایس (گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم) میں مداخلت ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ اس میں یا تو سیٹلائٹ سگنلز کو جام کیا جاتا ہے یا جعلی سگنلز بھیج کر طیارے کی پوزیشن سے متعلق غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
فلائٹ ریڈار24 کے مطابق شارجہ سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد مذکورہ طیارے سمیت کئی دیگر طیاروں کو بھی جی این ایس ایس مداخلت کا سامنا کرنا پڑا، تاہم متاثرہ علاقے سے نکلنے کے بعد طیارے کا اے ڈی ایس-بی ڈیٹا دوبارہ موصول ہونا شروع ہو گیا تھا۔
ماہرین نے واضح کیا کہ صرف جی این ایس ایس مداخلت کو حادثے کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ جدید طیاروں میں متبادل نیویگیشن سسٹمز موجود ہوتے ہیں اور پائلٹ مختلف ذرائع سے معلومات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق نیویگیشن کا مسئلہ کاک پٹ میں دباؤ ضرور بڑھا سکتا ہے، مگر یہ تیز رفتاری سے نیچے گرنے یا مکمل کنٹرول ختم ہونے کی واحد وضاحت نہیں ہو سکتا۔







