
خلیج اردو
ابوظہبی کی فوجداری عدالت نے واٹس ایپ پر سابق ساتھی کو توہین آمیز وائس نوٹ بھیجنے کے جرم میں ایک خاتون پر 30 ہزار درہم جرمانہ عائد کر دیا، جبکہ متاثرہ خاتون کو عارضی طور پر 21 ہزار درہم ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت ڈیجیٹل ذرائع سے کسی کی عزت و وقار مجروح کرنا قابلِ سزا جرم ہے، اور یہ فیصلہ "ڈیجیٹل ذمہ داری” کے اصول کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب شکایت کنندہ اپنی دوست کی متعدد فون کالز کا جواب نہ دے سکی۔ اس پر ملزمہ نے واٹس ایپ پر ایک وائس نوٹ بھیجا جس میں سخت نازیبا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔
تحقیقات کے دوران ملزمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا مقصد صرف اپنی دوست کو جواب نہ دینے پر تنبیہ کرنا تھا، نہ کہ اس کی توہین کرنا، کیونکہ دونوں کے درمیان پرانی دوستی اور پیشہ ورانہ تعلق موجود تھا۔
تاہم عدالت نے قرار دیا کہ ذاتی تعلقات یا جذباتی کیفیت کسی شخص کو قانون سے استثنا نہیں دے سکتے، اور جب توہین آمیز الفاظ ڈیجیٹل ریکارڈ کی صورت میں موجود ہوں تو انہیں واضح ثبوت تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت نے شہریوں اور رہائشیوں کو یاد دلایا کہ سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر غصے میں بھیجا گیا مختصر پیغام بھی سنگین قانونی اور مالی نتائج کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ ایسے ڈیجیٹل ریکارڈ سائبر کرائم مقدمات میں مضبوط ثبوت کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔







