
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے آسمان پر سہیل ستارہ 24 اگست کو طلوع ہونے کی توقع ہے۔ عرب روایات میں اس ستارے کا طلوع ہونا شدید گرمی کے اختتام اور موسم میں بتدریج تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
امارات ایسٹرونومی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان کے مطابق سہیل کے طلوع کے ساتھ تقریباً 40 روزہ عبوری دور شروع ہوتا ہے جسے صفریہ کہا جاتا ہے۔ اس دوران UAE میں شدید گرمی کی شدت بتدریج کم ہونا شروع ہوتی ہے۔
عربوں میں ایک قدیم کہاوت بھی مشہور ہے کہ "جب سہیل طلوع ہوتا ہے تو رات ٹھنڈی ہونے لگتی ہے۔”
تاہم ماہرین کے مطابق سہیل ستارہ خود موسم کو ٹھنڈا نہیں کرتا۔ تقریباً 300 نوری سال دور موجود یہ ستارہ زمین کے درجہ حرارت، ہواؤں یا نمی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔ اس کا طلوع صرف موسمی تبدیلی کے قدرتی دور کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
سہیل کے طلوع ہوتے ہی UAE میں اچانک موسم ٹھنڈا ہونے کی توقع نہیں۔ ستمبر تک درجہ حرارت بلند رہ سکتا ہے، تاہم تبدیلی کا اثر سب سے پہلے رات کے اوقات میں محسوس ہونے کی روایتی بات کی جاتی ہے۔
سہیل کے طلوع کے بعد تقریباً 40 روزہ صفریہ کا دور جاری رہتا ہے، جبکہ روایتی طور پر وسط اکتوبر کے قریب موسم الوَسم کے آغاز کے ساتھ موسم مزید مستحکم ہونے لگتا ہے۔ موسم سرما اس کے کافی بعد آتا ہے۔
قدیم زمانے میں سہیل صرف ایک ستارہ نہیں بلکہ عرب معاشروں کے لیے قدرتی کیلنڈر، موسم کی علامت اور زراعت و سمندری سرگرمیوں کے لیے رہنما بھی تھا۔ UAE کے روایتی فلکیاتی کیلنڈر الدُّرور میں بھی سہیل کو اہم حیثیت حاصل ہے۔
الدُّرور کیلنڈر میں سال کو 36 دس روزہ ادوار میں تقسیم کیا جاتا تھا اور ستاروں کی پوزیشن کی مدد سے کاشت کاری، فصلوں، ہواؤں، بارش، ماہی گیری، پرندوں کی ہجرت اور سمندری حالات سے متعلق اندازے لگائے جاتے تھے۔
آج جدید موسمی پیش گوئی کے لیے سیٹلائٹس، موسمی اسٹیشنز اور کمپیوٹر ماڈلز استعمال ہوتے ہیں، لیکن صدیوں پہلے عرب معاشروں کے لیے آسمان ہی ان کا موسمی کیلنڈر اور قدرتی رہنما تھا۔







