
خلیج اردو
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت منظور کیے گئے غزہ کے جامع منصوبے کو براہِ راست مسترد کرنے کے مترادف ہے، جس سے منصوبے کے نفاذ اور خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔
اعلامیے کے مطابق غزہ منصوبے کے تحت فلسطینی دھڑوں نے روڈ میپ کو قبول کر لیا ہے، جس میں اسرائیلی افواج کے انخلا، ہتھیاروں کے خاتمے، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، غزہ کے انتظامی اختیارات کی قومی کمیٹی کو منتقلی اور غزہ کی تعمیرِ نو جیسے اقدامات شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ روڈ میپ کو مسترد کرنا دراصل غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر کے جامع منصوبے کو ناکام بنانے کے مترادف ہے اور اس سے خطے میں امن کے قیام کی کوششیں متاثر ہوں گی۔
مشترکہ اعلامیے میں امریکا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ منصوبے کے تحت کیے گئے وعدوں اور انتظامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا فعال کردار جاری رکھے اور اسرائیل کو منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے روکے۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل رکاوٹیں، تاخیر یا عدم تعاون کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تمام صورتِ حال کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوگی۔
اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے اور 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت ہے۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دو ریاستی حل کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کا حصول ممکن نہیں۔







