
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے ماہرین نفسیات نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کے منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کی نئی تحقیق کے مطابق بچپن میں جسمانی سزا کا سامنا کرنے والے بچوں میں تعلیمی مشکلات اور نوعمری میں خطرناک رویوں میں ملوث ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کو مارنا یا تھپڑ لگانا ان کی جذباتی کیفیت، خود اعتمادی اور دوسروں کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
تحقیق میں 2000 سے 2002 کے درمیان برطانیہ میں پیدا ہونے والے تقریباً 19 ہزار بچوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق جن بچوں کو 3، 5 اور 7 سال کی عمر میں جسمانی سزا دی گئی، ان میں انگلینڈ میں پانچ GCSE گریڈز حاصل نہ کرنے کا امکان ایسے بچوں کے مقابلے میں 5.7 فیصد پوائنٹس زیادہ تھا جنہیں جسمانی سزا نہیں دی گئی۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ ابتدائی بچپن میں جسمانی سزا کا سامنا کرنے والے 14 سالہ بچوں میں دوسروں کے خلاف خطرناک رویوں، جن میں مارنا، دھکا دینا اور بدمعاشی شامل ہے، اختیار کرنے کا امکان 33 فیصد زیادہ تھا۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے اور اس سے جسمانی سزا اور خراب تعلیمی نتائج یا خطرناک رویوں کے درمیان براہِ راست وجہ ثابت نہیں ہوتی۔
متحدہ عرب امارات کے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بچے اس وقت بہتر سیکھتے ہیں جب وہ خود کو محفوظ اور پُرسکون محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بار بار جسمانی سزا بچوں میں خوف، بے چینی اور جذبات پر قابو پانے میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے، جس سے ان کی توجہ، اعتماد اور سیکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بچے بڑوں کے رویوں سے تنازعات حل کرنے کا طریقہ سیکھتے ہیں۔ اگر والدین بچوں کو دوسروں کو مارنے سے منع کریں لیکن خود غصے میں انہیں ماریں تو بچے کے لیے یہ ایک متضاد پیغام ہو سکتا ہے۔ ایسے بچوں میں یہ تصور پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے کہ جسمانی طاقت تنازعات حل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
ماہرین نے والدین پر زور دیا کہ جسمانی سزا ترک کرنے کا مطلب بچوں کو نظم و ضبط سے آزاد کرنا نہیں۔ والدین کو واضح اور مستقل حدود مقرر کرنی چاہئیں، عمر کے مطابق مناسب نتائج طے کرنے چاہئیں اور اچھے رویے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق نظم و ضبط سخت اور واضح ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے تشدد ضروری نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کا مقصد بچوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں ذمہ داری، اپنے جذبات پر قابو پانے اور درست فیصلے کرنے کا طریقہ سکھانا ہونا چاہیے۔







