متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں اسکول کھلنے میں 10 دن باقی، والدین کو کتنے اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے؟

خلیج اردو
یو اے ای بھر میں اسکول 31 اگست سے دوبارہ کھلنے جارہے ہیں اور والدین بچوں کو اسکول بھیجنے کی تیاری کے ساتھ نئے تعلیمی سال کے اخراجات کا بھی حساب لگارہے ہیں۔

اسکول فیس کے علاوہ یونیفارم کتابیں اسٹیشنری ٹرانسپورٹ ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کھانا سرگرمیاں اور اسکول ٹرپس جیسے اخراجات خاندان کے بجٹ پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں درہم کا اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

چار بیٹیوں کی اسکول اور یونیورسٹی کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے والی پاکستانی خاتون نغت عباس کے مطابق ان کے خاندان کو صرف غیر تدریسی اخراجات کے لیے تقریباً 8 ہزار سے 10 ہزار درہم درکار ہوتے ہیں۔ ان کی تین بیٹیاں پبلک ٹرانسپورٹ جبکہ سب سے چھوٹی اسکول بس استعمال کرتی ہے۔

ایک اور برطانوی والدہ ایما کالڈویل نے اپنے بیٹے کی یونیفارم پر 456 درہم خرچ کیے جبکہ اسکول کے جوتوں پر 200 درہم اور جرابوں پر 50 درہم اضافی خرچ ہوئے۔ پرانا آئی پیڈ خراب ہونے کے باعث نیا ڈیوائس خریدنے پر تقریباً 3 ہزار درہم مزید خرچ کرنا پڑے۔

ماہرین کے مطابق والدین کو اسکول فیس کے ساتھ ان اخراجات کو بھی سالانہ بجٹ میں شامل کرنا چاہیے جو بظاہر چھوٹے ہوتے ہیں لیکن پورے سال میں بڑی رقم بن سکتے ہیں۔ ان میں تصاویر ایکٹیویٹی ڈیز ملبوسات ایونٹس پروجیکٹس کھیلوں اور اضافی سرگرمیوں کے اخراجات شامل ہیں۔

اسکول انتظامیہ کے مطابق کچھ اخراجات لازمی جبکہ ٹرانسپورٹ اسکول میلز غیر نصابی سرگرمیاں تعلیمی دورے اور بعض دیگر سہولیات اختیاری ہوسکتی ہیں۔

مالیاتی ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ تعلیم کو صرف ماہانہ یا سہ ماہی فیس کے بجائے سالانہ گھریلو خرچ سمجھیں۔ گزشتہ سال کے تمام تعلیمی اخراجات کا جائزہ لے کر نئے سال کے لیے حقیقت پسندانہ بجٹ بنایا جائے۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی خاندان کو ایک سال میں اضافی تعلیمی اخراجات کی مد میں 12 ہزار درہم درکار ہوں تو وہ ہر ماہ ایک ہزار درہم الگ رکھ کر سال کے اختتام تک یہ رقم جمع کرسکتا ہے۔

والدین کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ ہر چیز نئی خریدنے کے بجائے پہلے موجودہ یونیفارم کتابوں بیگ جوتوں اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیں اور صرف ضروری اشیا خریدیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button