
دبئی کی معروف ٹویوٹا بلڈنگ سے کرایہ داروں کے انخلا کی بڑی وجہ غیر قانونی طور پر بنائے گئے پارٹیشن فلیٹس اور شدید رش قرار دی گئی ہے۔ عمارت کے رئیل اسٹیٹ شعبے کے نمائندے محمود کے مطابق بعض اپارٹمنٹس میں 15 تک افراد رہائش پذیر تھے۔
نصیر راشد لوطہ گروپ کے زیر انتظام اس عمارت کے 70 فیصد حصے کو خالی کرایا جا چکا ہے۔ حکام کی ہدایت پر انتظامیہ نے ان فلیٹس کے خلاف کارروائی کی جہاں گنجائش سے زیادہ افراد رہ رہے تھے۔
محمود نے تصدیق کی کہ شیخ زاید روڈ پر واقع یہ تاریخی عمارت اب منہدم کی جائے گی تاہم اس کے لیے ابھی کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
رہائشیوں کے مطابق ابتدا میں انہیں لگا کہ صرف پارٹیشن رومز کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے لیکن بعد میں کمپنی رہائش میں موجود افراد کو بھی عمارت خالی کرنے کا کہا گیا۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق غیر قانونی پارٹیشن رومز حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور آگ لگنے جیسے واقعات میں خطرہ بڑھا سکتے ہیں کیونکہ ہنگامی انخلا مشکل ہو جاتا ہے۔
1974 میں تعمیر ہونے والی یہ 15 منزلہ عمارت دبئی کی ابتدائی رہائشی عمارتوں میں شمار ہوتی ہے۔ 1981 میں اس کی چھت پر ٹویوٹا کا بڑا سرخ سائن نصب کیا گیا تھا جس کے باعث یہ "ٹویوٹا بلڈنگ” کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ سائن 2018 میں ہٹایا گیا تھا تاہم عوامی جذبات کے باعث 2022 میں دوبارہ نصب کر دیا گیا۔







