متحدہ عرب امارات

دبئی میونسپلٹی نے دبئی کے ان علاقوں کی مکمل فہرست جاری کردی ہے جہاں نئے ضوابط کے تحت مشترکہ رہائش یعنی شیئرڈ ہاؤسنگ کی اجازت ہوگی

خلیج اردو
دبئی میونسپلٹی نے دبئی کے ان علاقوں کی مکمل فہرست جاری کردی ہے جہاں نئے ضوابط کے تحت مشترکہ رہائش یعنی شیئرڈ ہاؤسنگ کی اجازت ہوگی۔ میونسپلٹی کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق دبئی کے 44 سے زائد علاقوں کو شیئرڈ ہاؤسنگ کے لیے مختص کیا گیا ہے، تاہم بعض علاقوں میں صرف مخصوص حصوں میں یہ سہولت دستیاب ہوگی جبکہ دیگر علاقوں میں مکمل طور پر اجازت ہوگی۔

جن علاقوں کے بعض حصوں میں شیئرڈ ہاؤسنگ کی اجازت ہوگی، ان میں ابو ہیل، البرحہ، الحمریہ، منخول، الجافلیہ، الہدیبیہ، الصفا، پورٹ سعید، ہور العنز ایسٹ، الممزر اور القصیص انڈسٹریل ایریا کے زون ایک، دو، تین، چار اور پانچ شامل ہیں۔

دبئی کے جن علاقوں کے تمام حصوں میں شیئرڈ ہاؤسنگ کی اجازت ہوگی، ان میں الراس، الدغاتا، البطین، السبخہ، عیال ناصر، المرر، نائف، الرقة، المطینہ، المرَقبات، رقة البطین، ہور العنز، الوحیدہ، الراشدیہ، النہدہ ون، القصیص، الطوار فائیو، النہدہ ٹو، محیصنہ فور، سوق الکبیر، ام ہریر ون اور ٹو، الرفاع، کرامہ، عود میثاء، جمیرا ون، البدع، بارشا ون اور الورقاء ون شامل ہیں۔

نئے ضوابط کے تحت مشترکہ رہائش کو دو اقسام، انفرادی رہائش اور خاندانی رہائش، میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک رہائشی یونٹ کو صرف ایک ہی کیٹیگری کے لیے مختص کیا جا سکے گا اور دونوں اقسام کو ایک ہی یونٹ میں یکجا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

قواعد کے مطابق ہر فرد کے لیے بیڈروم میں کم از کم پانچ مربع میٹر جگہ مختص کرنا ضروری ہوگا، جبکہ رہائشی یونٹ میں مناسب کچن، باتھ روم، کھانے، تفریح اور کپڑے دھونے کی سہولیات بھی موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

سیاحتی اور تجارتی علاقوں، جن میں بنی یاس روڈ، شیخ زاید روڈ، جمیرا روڈ اور الوصل روڈ شامل ہیں، میں صرف خاندانی رہائش کی اجازت ہوگی۔

دبئی میونسپلٹی کے ضوابط کے مطابق کسی بھی پراپرٹی کو شیئرڈ ہاؤسنگ کے طور پر چلانے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ پہلے سے موجود ایسی پراپرٹیز کو اپنے قیام کو نئے ضوابط کے مطابق قانونی بنانے کے لیے 8 ستمبر 2027 تک مہلت دی گئی ہے۔

ضوابط کی خلاف ورزی پر 500 درہم سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد مشترکہ رہائش کے نظام کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ رہائشیوں کے لیے مناسب سہولیات اور حفاظتی معیار یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button