
خلیج اردو
دبئی کے نجی سکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 4 لاکھ 6 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد خاندانوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے اور کم فیس والے تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافے پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ دبئی میں نئی رہائشی آبادیوں کے قیام اور خاندانوں کی آمد کے باعث مختلف فیسوں اور نصاب کے حامل سکولوں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میں تعلیمی سال 2026-27 کے لیے 7 نئے نجی سکول کھولے گئے ہیں، جن میں تقریباً 17 ہزار طلبہ کے داخلوں کی گنجائش ہے۔ اس کے علاوہ ابتدائی بچپن کی تعلیم کے 17 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن سے 1700 سے زائد نشستوں کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے دو بین الاقوامی ادارے بھی دبئی میں متعارف کرائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو تعلیمی سال کے دوران دبئی میں 51 نئے نجی تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں، جبکہ آئندہ دو تعلیمی سال میں تقریباً 18 ہزار مزید کم فیس والی تعلیمی نشستیں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
دبئی کی نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل عائشہ میران نے کہا ہے کہ ادارہ تعلیمی ضروریات کے مطابق سکولوں کے قیام اور ان کی جگہوں کا تعین کرنے کے لیے ایجوکیشن ماسٹر پلان پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سکولوں کی فیسوں کو قابل برداشت رکھنے کے ساتھ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ ادارے متعلقہ رہائشی علاقوں کی ضروریات پوری کریں، تاکہ بچوں کو روزانہ طویل سفر نہ کرنا پڑے۔
تعلیمی اداروں کے منتظمین کے مطابق والدین صرف کم فیس نہیں بلکہ معیاری تدریس، بہتر تعلیمی نتائج، بچوں کی فلاح و بہبود، نصاب اور سکول کے گھر سے فاصلے کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے کم فیس والے سکولوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ تعلیم کے معیار اور بنیادی سہولتوں کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
جیمز ایجوکیشن کے گروپ چیف ایگزیکٹو ڈینو ورکی کے مطابق ادارے کے درمیانی فیس والے سکولوں میں رواں سال تقریباً 4500 نئے طلبہ نے داخلہ لیا، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد تقریباً 4300 تھی۔ ان کے مطابق ادارے نے تعلیمی سال 2026-27 کے لیے دبئی میں تقریباً 5 ہزار نئی نشستوں کا اضافہ کیا ہے، جبکہ آئندہ تین سال میں دبئی اور ابوظبی میں تقریباً 20 ہزار مزید نشستیں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس پر تقریباً 2 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس نئی گنجائش کا تقریباً 75 فیصد حصہ کم اور درمیانی فیس والے سکولوں کے لیے مختص ہوگا۔
تعلیم فراہم کرنے والے ادارے تعلیمی نصاب کے انتخاب کو بھی اہم قرار دے رہے ہیں۔ دبئی میں برطانوی، امریکی، انٹرنیشنل بکلوریٹ اور بھارتی نصاب کے تحت تعلیم فراہم کی جاتی ہے، جس سے والدین کو اپنی مالی استطاعت اور بچوں کی ضروریات کے مطابق انتخاب کے مواقع ملتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے مطابق مختلف نصاب اور فیسوں کے حامل سکولوں کی دستیابی خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ سکول کے انتخاب کے دوران صرف سالانہ ٹیوشن فیس نہ دیکھیں بلکہ ٹرانسپورٹ، یونیفارم، کتابوں، سرگرمیوں اور دیگر لازمی اخراجات کو بھی شامل کریں۔ اس کے علاوہ سکول کے معائنے کے نتائج، گھر سے فاصلے، متعلقہ جماعت میں دستیاب نشستوں اور اگلی جماعتوں میں فیسوں میں ممکنہ اضافے کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔







