(خلیج اردو ) متحدہ عرب امارات میں حادثات اور جرمانوں کی کی سب سے بڑی وجہ تیزرفتاری اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہ کرنا سامنے آئی ہے۔ متحدہ امارات میں ٹریفک قوانین واضخ ہے جس پر عمل کرنے سے نہ صرف جرمانوں سے بچا جاسکتا ہے بلکہ جاں لیوا حادثات سے بھی چھٹکارا ملتا ہے ۔
متحدہ عرب امارات میں سب سے زیادہ حادثات تیز رفتاری کے باعث ہوتے ہیں ۔ تیزرفتار گاڑی کو راستہ نہ دینے پر نہ صرف جرمانہ عائد ہوسکتا ہے بلکہ اس سے حادثے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ لہذا ٹریفک قوانین کی کی پاسداری کرتے ہوئے پیچھے سے تیز رفتار گاڑی کو لاین تبدیل کرکے راستہ دینا چاہئے ۔ اگر پیچھے سے تیز رفتار گاڑی کو راستہ نہ دیا تو جرمانہ لگ سکتا ہے ۔ اگر فاسٹ لاین پر گاڑی سفر کررہی ہو اور پیچھے گاڑی کو نکلنے کا راستہ نہ دیا تو بھی جرمانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔
بائیں طرف کی لاین اور ٹیک کے لئے استعمال ہوتی ہے اور دائیں طرف سے اور ٹیک کرنے پر بھی جرمانہ لگ سکتا ہے ۔
سست رفتاری کی وجہ سے یا دوسری وجوہات کے بنا لاین بلاک کرنے پر بھی جرمانہ عائد ہوتا ہے ۔
سڑک پر سفر کرتے وقت گاڑیوں میں نامناسب فاصلہ رکھنے سے بھی جرمانہ عائد ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق جنوری سے اگست تک مناسب فاصلہ نہ رکھنے پر13759 بے ضابطگیاں ریکارڈ ہوئی اور جرمانے عائد کئے گئے ۔ اس حوالے سے ابوظہبی پولیس 2 سیکنڈ رول متعارف کرایا ہے جس کے مطابق آگے والی گاڑی سے دو سیکنڈ پچھے رہنا ہوگا جیسا کہ گاڑی چل رہی ہے اور ایک مقام سے گزر گئی تو یہ ضروری ہے کہ وہی مقام کراس کرتے ہوئے پیچھے گاڑی دو سیکنڈ سے زیادہ وقت لے ۔ جبکہ تیز رفتاری میں یہ وقفہ 5 سیکنڈ کا ہوتا ہے یعنی پیچھے گاڑی آگے والی گاڑی سے ایک مقام کو 5 سیکنڈ بعد ہی کراس کرے ورنہ جرمانہ عائد ہوتا ہے ۔
سیٹ بیلٹ نہ لگانا بھی متحدہ عرب امارات میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر جرمانہ عاید ہوسکتا ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں بچوں کے لئے پیچھے کی سیٹ ہوتی ہے آگے سیٹ پر بچوں کو بٹھایا بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ سڑک پر گاڑی میں ڈرائیور کے لئے قانون ہے کہ موبائل استعمال ہیں کرنگے ۔ گاڑی چلاتے ہوئے موبائل کے استعمال پر بھی جرمانہ عائد ہوسکتا ہے ۔
متحدہ عرب امارات میں اشارہ لگائے بغیر لائن تبدیل کرنا ایک جرم ہے جس پر جرمانہ عائد ہوسکتا ہے ۔متحدہ عرب امارات اینڈیکیٹر کے خلاف ورزیاں اعدادوشمار کے مطابق زیادہ ہوتی ہے جس پر بھی جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔
Source : Gulf News







