دبئی(خلیج اردو):حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں حفظٓان صحت کے اصولوں پر عمل پیرارہ کر ہی کورونا کے خلاف کوششیں کامیاب ہو سکتیں ہیں۔
جمعہ کوپبلک پراسیکوٹر میں ایمرجنسی، کراسز اینڈ ڈیزاسٹر کمیٹی کے قائمقام چیف پراسیکوٹر سلیم آل زابی نے حکومت کی جانب سے ایک لائیو براڈکاسٹ جس کا عنوان Commit to Win Compaign تھا ، سے خطاب میں کہنا تھا کہ کورونا کی صورت حال کو دیکھ کر نئی پابندیوں کے عائد کیے جانے بارے سوچا جا سکتا ہے۔
قبل ازیں ایک اوربراڈکاسٹ میں متحدہ امارات حکومت کے ترجمان ڈاکٹر عمر آل حمادی نے اس بات کی تاکید کی کہ عوام کورونا سے متعلق احتیاطی تدابیر اپنانے میں غفلت سے کام نہ لیں۔
ڈاکٹر حمادی نے کہا معمولی احتیاطی تدابیر آپ کو بہت سی مشکلات اور پیچیدگیوں سے بچانے کیلئے کارآمد ہے۔ جیسے ماسک پہننا ، سینٹائزیشن کرنا ، سماجی فاصلہ رکھنا آپ کو اور دوسروں کو محفوظ رکھتا ہے۔
ڈاکٹر آل حمادی نے کہا کہ جب تک کورونا ویکسین ایجاد نہیں کی جاتی ہمیں ان احتیاطی تدابیر کے ذریعے کورونا کے اثرات کو کم کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔
انہوں نے کورونا کے خلاف فرنٹ پر کام کرنے والے کارکنان کو خراج پیش کرتے ہوئے کورونا کے خلاف حاصل کامیابیوں کے تسلسل کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معیشت کا پہیہ چلے ، ہمارے بچے اسکول جائیں اور ہم آزادانہ سفر کر سکیں تو اس کیلئے احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا ہو گا۔
نیشنل کرائسز اینڈ ایمرجنسی منجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ڈاکٹر سیف آل داھیری کا کہنا ہے کہ کچھ علاقوں میں ضرورت پڑنے پر نیشنل سیٹریلائزیشن پروگرام کو دوبارہ نافز کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات نے نیشنل سیٹرالائزین پروگرام 26 مارچ سے شروع کیا تھا اور اس کے خاطرخواہ نتائج کے بعد 24 جون کو ختم کیا تھا۔
Source : Khaleej Times







