متحدہ عرب امارات

شیخ محمد بن راشد المکتوم کو توانائی، انفراسٹرکچر اور ہاؤسنگ میں ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ

دبئی(خلیج اردو) ۔۔ نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے پاس خطے میں اپنی نوعیت کا سب سے جدید اور موثر لاجسٹک نظام موجود ہے اور انفراسٹرکچر کے معیار اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو ترقی دیئے بغیر اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔
شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ ہم انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں ایک ایسی بڑی پیش رفت حاسل کرنا چاہتے ہیں جس سے نقل و حمل کے شعبوں میں جامعیت، انضمام کے ساتھ اس میں توازن اور استحکام پیدا ہو اور علاقائی اور عالمی سطح پر ہماری مسابقت میں اضافہ ہو۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت توانائی اور انفراسٹرکچر کی ٹیم سے ملاقات میں کیا جہاں انہیں توانائی، انفراسٹرکچر، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں قائدانہ کردار کے روڈ میپ کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس روڈ میپ میں اگلے دس سال کے دوران عالمی سطح پر مسابقت بڑھانے، انفراسٹرکچر کے استحکام کی حمایت اور ایک جامع وژن کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل ہے۔ شیخ محمد کو بتایا گیا کہ توانائی، انفراسٹرکچر اور رہائش کے شعبوں میں متحدہ عرب امارات نے مسلسل تیسری سال اپنی پہلی عالمی درجہ بندی برقرار رکھی ہے۔

بنیادی ڈھانچے کے معیار کے لحاظ سے بھی متحدہ عرب امارات علاقائی طور پر پہلے اور عالمی سطح پر 12 ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح یہ سڑک اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی دستیابی اور معیار کے لحاظ سے علاقائی طور پر پہلے اور عالمی سطح پر 7 ویں نمبر پر ہے۔ شیخ محمد بن راشد نے کہا کہ نجی شعبہ مستقبل میں کام کا انجن ہے اور ہم مربوط شراکت کے فریم ورک میں انفراسٹرکچر، توانائی، ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ منصوبوں میں اس کی شراکت کو فروغ دینے کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت تمام شہریوں کو مناسب رہائش کی فراہمی پر کام کررہی ہے تاکہ خاندانی استحکام، معاشرتی تحفظ اور ماحولیاتی استحکام کو بڑھانے کے دوران کوئی بھی شخص ایک باوقار رہائش کے نہ رہے۔

وزیر توانائی و انفراسٹرکچر سہیل بن محمد المزروئی نے شیخ محمد کو توانائی، انفراسٹرکچر، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں قائدانہ کردار کے لئے روڈ میپ کے نمایاں نکات پیش کئے۔ نائب وزیر اعظم اور صدارتی امور کے وزیر شیخ منصور بن زاید آل نھیان اور کابینہ امور کے وزیر محمد بن عبد اللہ القرقاوی بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔ وزیر توانائی و انفراسٹرکچر نے کہا کہ وزارت کا وژن توانائی، بنیادی ڈھانچے، شہریوں کے لئے رہائش اور نقل و حمل کے شعبوں کو اثاثہ جات کے انتظام کے لئے ایک مربوط نظام میں شامل کرنے پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اثاثہ جات کے اس مربوط نظام کے ذریعے سرکاری عمارتوں اور سہولیات کے انتظام اور دیکھ بھال کے اخراجات میں 20 فیصد تک کمی کی توقع ہے۔ المزروئی نے آئندہ 50 سالوں میں بجلی اور مستقبل کی توانائی کے لئے حکمت عملی اور اقدامات کا جائزہ بھی پیش کیا۔ وزیر توانائی و انسفراسٹرکچرنے شہریوں کی رہائش کے شعبے کی کامیابیوں، اس کے ترقیاتی اقدامات، استحکام اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک طریقہ کار، اس شعبے میں قومی فوائد کو محفوظ رکھنے اور اس کے طریقہ کار پر بھی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں ہونے والے تمام اقدامات اور منصوبوں کا مقصد صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید آل نھیان ، نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم اور ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نھیان کے شہریوں کو بہتر معیار زندگی فراہم کرنے کے وژن کا حصول ہے

Source : WAM

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button