کراچی(خلیج اردو): گزشتہ ہفتے کراچی میں مون سون کی بارشوں نے شہر کو ڈبو دیا۔ 47 قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں اور 15 ملین کا شہر جو ملک کا معاشی کپیٹل سمجھا جاتا ہے ، جگہ جگہ پانی کے تالاب کی یشکل اختیار کر گیا۔
جمعہ تک شہر بھر میں سیلاب کی صورت حال تھی۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز سمیت دیگر ریسکیو کے اداروں نےبحالی آپریشن میں حصہ لیا اور ضرورت مندوں کو کھانا سمیت دیگر ضروری امداد پہنچایا۔
افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق پاک فوج کے انجینئرز نے مسلسل کاوشوں کے بعد شہر کو صاف کیا اور پانی کو واٹر پمپس کے ذرئعے باہر نکلا۔
کراچی میں بارش کے بعد کئی علاقوں کی بجلی منقطع کی گئی اور شہر میں موبائل سروس بھی غائب رہی۔
ہر سال جولائی سے ستمبر میں پاکستان کے مختلف شہر مون سون کی بارشوں سے متائثر ہوجاتے ہیں اور ان شہروں میں کراچی بھی شامل ہے۔
حالیہ بارشوں کے بعد عوام میں کافی غم و غصہ پایا جاتاہے اور وہ اس حوالے سے نکاس اب اور شہر کی حفاظت سمیت شہر کے مسائل کا مستقل حل چاہتے ہیں اور سوشل میڈیا پر مطالبات کررہے ہیں۔
حکومتی وزرا سمیت کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کراچی کو صوبائی حکومت کے بجائے الگ ایڈمنسٹریٹر کے ذرئعے چلانے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔
کچھ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ بعض جماعتوں کی جانب سے اسے سندھ کی تقسیم کہا جارہا ہے اور اس حوالے سے شدید جزبات پائے جاتے ہیں.
Source : khaleej Times






