پاکستانی خبریں

ہم نے قربانیاں بہت دیں ، اب خون کا حساب چاہیے ، بلاول بھٹو

خلیج اردو
17 ستمبر 2020
اسلام آباد: اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں، وکیلوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی اے پی سی میں احتساب کے نام پرسیاسی انتقام، شخصی آزادیاں سلب کرنے اورآئین کی روح کے منافی قانون سازی کی مذمت کی گئی۔

کانفرنس سے خطاب میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ آج ملک میں کوئی بھی آزادانہ کام نہیں کرسکتا۔اگر قانون سازی زور زبردستی یا دھمکیوں سے کی جائے گی تو اس قانون کا کوئی مستقبل نہیں نہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حکومت میں اہم قانون سازی پارلیمان کوبےاختیارکرکےہوئیں۔ سوچناہوگاکب تک اس پارلیمان کوربراسٹیمپ کی حیثیت میں دیکھیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اسلام نے ہر شہری کو حقوق دیے ہیں۔اسلام نے خواتین کو حقوق دیے ہیں ۔ ریاست مدینے میں بولنے کی آزادی تھی لیکن موجودہ ریاست مدینہ میں حکمرانوں کو بھی بولنے کی آزادی نہیں۔ آج ریاست مدینہ میں موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی۔ وزراء مجرم کے بجائے متاثرہ خاتون کو نصیحتیں کرتے ہیں۔

چئیرمین پیلز پارٹی نے کہا کہ میں یہ عدالتیں شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ بچپن سے دیکھتا آرہا ہوں شہری حقوق کے بغیر نہ سیاست دان اپنا کام کرسکتے ہیں نہ صحافی۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جو کبھی سلیکٹ کئے جاتے تھے آج وہ ووٹ کی حکمرانی کی بات کررہے ہیں وہ عوام کی طاقت کی بات کررہے ہیں اور ان کو انقلابی بننا پڑ رہا۔

 

بلاول بھٹو نے کہا کہ جو لوگ صحافت کی آڑ میں حکومت بنانے اور گرانے کا دعوی کرتے تھے آج مشکل میں ہیں۔ آج وہ اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ آج کے حکمرانوں کو بولنے سے پہلے اجازت لینی پڑتی ہے۔ آج 2020 میں کوئی کتاب نہیں چاپ سکتا، یا ٹوئیٹ نہیں کرسکتا۔

مسٹر بھٹو نے کہا کہ ہم کو شہدا کے جماعت سے یاد کیا جاتا ہے۔ میرے خاندان اور پارٹی نے قربانیاں بہت دی ہے اب اس خون کا حساب چکتا کرنا ہے- جس خون سے آئین لکھا گیا ہے آج اس کو بچانا ہے۔ خواہ وہ اٹھارویں ترمیم ہو یا این ایف سی ایوارڈ ہو یا شہریوں کے حقوق ہوں ، ہم آئین کی کسی صورت پامالی کو برداشت نہیں کریں گے۔

بلاول نے کہا میرے نانا کو پھانسی پر چڑھایا گیا ہے۔ شہید زولفقار علی بھٹو کو کافر کہنے والے اُن کو شہید مانتے ہیں۔ وہ لوگ بھی آج یہاں موجود ہے جو بے نظیر بھٹو کو کہتے تھے آپ خاتون ہے وزیر اعظم نہیں بن سکتی۔

بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ احتساب کے نظام میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے،ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی ہونی چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ عوام ججوں کی تقرری کریں۔ پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندے ججوں کی تقرری کا فیصلہ کریں۔

اے پی سی سے سیاسی جماعتوں کے قائدین، پاکستان بارکونسل اورسپریم کورٹ بارکے سابق صدور، وکلاء رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہاگیا کہ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے، جوڈیشل کمیشن ختم کرکے ایسا فورم بنایا جائے جس میں پارلیمان کی نمائندگی ہو، احتساب کے نظام میں خامیاں ختم کی جائیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button