
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سائبر سکیورٹی ماہرین نے شہریوں اور غیرملکی رہائشیوں کو ایک نئے اور انتہائی خطرناک فراڈ سے خبردار کیا ہے، جس میں جعلساز سفارت خانوں، بینکوں اور سرکاری اداروں کے نمبرز ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
ابوظبی میں مقیم لبنانی انجینئر روڈی نصر کو ایک کال موصول ہوئی جو بظاہر لبنان میں امریکی سفارت خانے کے نمبر سے کی گئی تھی۔ کال کرنے والے نے امریکی لہجے میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی شناخت منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں سامنے آئی ہے اور ان کا برسوں پہلے یونان میں چوری ہونے والا پاسپورٹ اس معاملے میں استعمال ہوا ہے۔
کالر نے نہ صرف ان کا نام لیا بلکہ ان کی کچھ ذاتی معلومات بھی بتائیں، جس سے معاملہ بظاہر حقیقی محسوس ہوا۔ بعد ازاں انہیں ایک وکیل مقرر کرنے اور قانونی کارروائی کے نام پر رقم منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
روڈی نصر نے شک ہونے پر خود اسی نمبر پر رابطہ کیا جو ان کے فون پر ظاہر ہوا تھا۔ سفارت خانے کے اہلکار نے انہیں بتایا کہ یہ فراڈ ہے اور جعلساز سفارت خانے کا نمبر استعمال کر کے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سائبر جرائم کے ماہر ڈاکٹر کلاڈ فخخا کے مطابق جدید فراڈ گروہ انتہائی منظم انداز میں کام کرتے ہیں۔ مختلف افراد ڈیٹا جمع کرنے، تکنیکی نظام چلانے، فون کالز کرنے اور مالی لین دین سنبھالنے کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فراڈ کرنے والے افراد سوشل میڈیا، پیشہ ورانہ ویب سائٹس، لیک شدہ ڈیٹا بیسز، سفری دستاویزات اور دیگر ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے ہر شخص کے لیے مخصوص اور قابلِ یقین کہانیاں تیار کرتے ہیں۔
کینیڈین یونیورسٹی دبئی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مہک کھرانہ نے بتایا کہ زیادہ تر معاملات میں اصل فون نمبر ہیک نہیں کیے جاتے بلکہ "کالر آئی ڈی سپوفنگ” نامی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، جس کے ذریعے فون اسکرین پر کسی معتبر ادارے کا نمبر ظاہر کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے فراڈ میں خوف اور جلد بازی پیدا کرنا بنیادی ہتھیار ہوتا ہے۔ جعلساز قانونی کارروائی، ملازمت، اقامہ یا مالی نقصانات کا خوف دلا کر متاثرہ شخص سے ذاتی معلومات، بینکنگ تفصیلات یا حساس ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مہک کھرانہ نے خبردار کیا کہ سرکاری ادارے، سفارت خانے یا بینک کبھی بھی فون پر پاسپورٹ تفصیلات، بینک معلومات یا ایک بار استعمال ہونے والے تصدیقی کوڈ طلب نہیں کرتے۔ بعض صورتوں میں متاثرین کو موبائل ایپلی کیشنز ڈاؤن لوڈ کروا کر ان کے آلات تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی مشکوک کال کی صورت میں گھبرانے کے بجائے متعلقہ ادارے سے اس کے سرکاری ذرائع کے ذریعے خود رابطہ کیا جائے اور کال کرنے والے کی فراہم کردہ معلومات یا نمبرز پر انحصار نہ کیا جائے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق جدید فراڈ اتنا پیچیدہ ہو چکا ہے کہ فون پر ظاہر ہونے والا نمبر اصلی ہو سکتا ہے، آواز سرکاری اہلکار جیسی لگ سکتی ہے اور دی جانے والی معلومات بھی درست ہو سکتی ہیں، یہی عوامل ان دھوکہ دہی کی کارروائیوں کو پہلے سے زیادہ خطرناک بنا رہے ہیں۔







