متحدہ عرب امارات

دبئی: تفریحی مراکز کے لیے جزوی کرفیو کا اعلان کر دیا گیا

خلیج اردو آن لائن: نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز کے مطابق دبئی میں ہوٹلوں میں تفریحی سرگرمیوں، کھانوں، اور مشروبات کے حوالے سے دی جانے ولی خدمات کے اوقات کار میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔

دبئی کے ٹورازم اور کامرس مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ (ڈی ٹی سی ایم) کی جانب سے 24 ستمبر بروز جمعرات کو ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر احکامات جاری کیے گئے تھے کہ شہر میں تمام تفریحی سرگرمیاں رات ایک بجے تک بند ہوجانی چاہیئیں۔

ڈی ٹی سی ایم کی جانب سے ہوٹلوں کی انتظامیہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کھانوں اور مشروبات کی فراہمی رات تین بجے کے بعد سختی سے معطل کر دی جانی چاہیے۔

تاہم، ڈلیوری اور روم سرور فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔

فارچون گروپ آف ہوٹلز کے مینجنگ ڈائریکٹر پروین شیٹھی نے نجی خبر رساں ادارے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا  ” ہم ڈی ٹی سی ایم کی جانب سے کیے گئے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ کورنا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے  لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے”۔

تاہم، پروین شیٹھی کا مزید کہنا تھا کہ ” دبئی میں شراب خانوں اور تفریحی مقامات پر رش جمعرات اور جمعہ کو زیادہ ہوتا ہے، اس لیے میری رائے میں یہ قواعد ان دنوں میں زیادہ زسختی سے نافذ ہونے ہونے چاہیے”۔

ہوٹلوں کے لیے کورونا ایس او پیز میں درج ذیل تبدیلیاں کی گئیں ہیں:

دبئی بلدیہ نے ہوٹلوں، کیفوں، اور کھانے پینے سے متعلق دیگر بزنسز کے لیے کورونا سے متعلق ایس او پیز میں ترمیم کر دی ہے۔

حکام کی جانب سے ایک ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہوٹلوں، ریستورانوں اور کیفوں کے لیے کورونا ایس او پیز میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔

نئی احتیاطی تدابیر درج ذٰیل ہوں گیں:

  • ہوٹلوں اور ریستورانوں کو یقینی بنانا ہوگا کے انکے صارفین کی جانب سے ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے جیسے ایس او پیز پر عمل کیا جار رہا ہے۔ اور یہ ایس او پیز تمام لوگوں کو اپنانے ہوں گے، اس بات سے قطع نظر کہ وہ ایک ہی خاندان کے افراد ہیں یا نہیں۔
  • مزید برآں، عام ہوٹلوں میں ایک ٹیبل پر بیٹھنے والے افراد کی زیادہ سے زیادہ تعداد 8 ہوگی۔
  • جبکہ شیشہ کیفوں میں یہ تعداد 5 افراد سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
  • ٹیبلوں کو ایک دوسرے سے دو میٹر کے فاصلے پر رکھا جائے گا۔
  • اور صارفین کو تمام وقت ماسک پہننا ہوگا جو کہ صرف کھانے کے وقت اتارنے کی اجازت ہوگی

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button