خلیج اردو
25 ستمبر 2020
نیو دہلی: میڈیا انڈسٹری اکثر اس تنقید کی زد میں رہتی ہے کہ وہ بیک وقت رونما ہونے والے واقعات میں عوام کے مسائل سے جڑے واقعات کے بجائے تفریحی واقعات یا شخصیات کے نجی محفلوں کی کوریج کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایسا بھارت میں گزشتہ دنوں ہوا جب میڈیا نے کرن جوہر کی پارٹی سے متعلق ایک ویڈیو کو کوریج دے کر کسانوں کے احتجاج کو نظرانداز کیا۔ سوشل میڈیا پر حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا گیا۔
معروف شاعر اور ادیب جاوید اختر نے اس حوالے سے طنز کرتے ہوئے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ اگر کرن جوہر اپنی پارٹی میں کچھ کسانوں کو بھی مدعو کرتے تو میڈیا چینلز کی مشکل آسان ہو جاتی۔ میڈیا کو کرن جوہر کی پارٹی اور کسانوں کے احتجاج کے درمیان کوریج کیلئے انتخاب نہ کرنا پڑتا۔
If Karan johar had invited some farmers too for his party life would have been easier for our TV channels.They would not have had to choose between farmers protest and Karan’s party!. it seems that Karan’s do is the second most favourite PARTY of our channels
— Javed Akhtar (@Javedakhtarjadu) September 25, 2020
جاوید اختر نے لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کو جو دوسری پارٹی پسند ہے وہ کرن جوہر کی پارٹی ہے، جاوید اختر نے جس پارٹی کو پہلے تصور کیا ہے وہ بھارتی جنتا پارٹی ہے جس پر وہ اکثر تنقید کرتے ہیں۔
جمعہ کو 200 سے زائد کسان گروپون کے اتحاد نے اپنے مطالبات کے حق میں ملک گیر احتجاج کیا اور ریلیاں نکالی جس میں کسانوں نے نئے قوانین پر تنقید کی۔ کسانوں کا خیال ہے کہ ان قوانین میں ان پر زیادہ بوجھ ڈالا گیا ہے۔
اسی اثناء میں کرن جوہر کی ایک سال پرانی نجی پارٹی کی ایک ویڈیو پر میڈیا میں بحث جاری رہی ۔ اس پارٹی کو مبینہ طور پر ڈرگ پارٹی کہا جارہا ہے۔ ویڈیو میں بالی ووڈ کی مشہور شخصیات جیسے دپیکا پاڈوکون ، رنبیر کپور ، ورون دھوون ، وکی کوشال ، ملائیکا اروڑا ، شاہد کپور، فلمساز زویا اختراور ایان مکھرجی مدعو تھے۔ تاہم ویڈیو میں ان میں کسی کو بھی منشیات لیتے نہیں دیکھا جا سکتا۔
بھارت میں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد یہ الزام زوروں پر ہے کہ بالی ووڈ میں منشیات کا استعمال ہوتا ہے۔
Source : Hindustan Times






