
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی کمپنی اسپیس 42 (Space42) نے ایک اہم ٹیکنالوجی ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیا ہے، جس کے بعد مستقبل میں عام اسمارٹ فونز موبائل سگنل نہ ہونے کی صورت میں براہ راست سیٹلائٹ کے ذریعے پیغامات بھیج سکیں گے اور ہنگامی مدد حاصل کر سکیں گے۔
ابوظہبی کی اسپیس 42 اور امریکی کمپنی اسکائی لو ٹیکنالوجیز (Skylo Technologies) نے ایک عام اینڈرائیڈ اسمارٹ فون اور اسپیس 42 کے ثریا-4 (Thuraya-4) سیٹلائٹ کے درمیان دو طرفہ ایس ایم ایس اور ایمرجنسی ایس او ایس رابطے کا کامیاب تجربہ کیا۔
کمپنی کے مطابق اس ٹیسٹ کے لیے نہ کسی اضافی اینٹینا کی ضرورت پڑی اور نہ ہی کسی خصوصی سیٹلائٹ ڈیوائس کی۔ موبائل فون نے موجودہ سم اور شناختی نظام کے ذریعے سیٹلائٹ سے رابطہ قائم کیا۔
تاہم یہ تجربہ مکمل فون کالز، انٹرنیٹ براؤزنگ یا ویڈیو اسٹریمنگ کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ موبائل کوریج ختم ہونے پر عام فون محدود معلومات جیسے پیغامات، لوکیشن شیئرنگ اور ایمرجنسی الرٹس بھیج سکتا ہے۔
اسپیس 42 کے سی ای او علی الہاشمی کے مطابق پہلے سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے لیے مخصوص فون یا بڑی اینٹینا والی ڈیوائسز درکار ہوتی تھیں، لیکن ڈائریکٹ ٹو ڈیوائس (D2D) ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا میں موجود تقریباً ہر موبائل صارف ممکنہ طور پر سیٹلائٹ نیٹ ورک سے جڑ سکتا ہے۔
ثریا-4 سیٹلائٹ زمین سے تقریباً 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر جیو اسٹیشنری مدار میں موجود ہے۔ اس فاصلے کی وجہ سے فی الحال زیادہ ڈیٹا استعمال کرنے والی سہولیات کے بجائے پیغامات، ہنگامی رابطے اور لوکیشن شیئرنگ جیسی خدمات پہلے دستیاب ہوں گی۔
اس منصوبے کا بڑا حصہ Equatys منصوبہ ہے، جو اسپیس 42 اور ویاسات (Viasat) کے درمیان مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد موبائل کمپنیوں کے لیے ایک مشترکہ سیٹلائٹ انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے، جس میں مستقبل میں 2800 تک سیٹلائٹس شامل ہو سکتے ہیں۔
اسپیس 42 کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا انحصار صرف سیٹلائٹس کی تعداد پر نہیں بلکہ دستیاب ریڈیو اسپیکٹرم پر بھی ہے، جو موبائل فون اور سیٹلائٹ کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کنیکٹیویٹی کا مقصد یہ ہے کہ صارف کو یہ فرق محسوس ہی نہ ہو کہ رابطہ موبائل ٹاور سے ہو رہا ہے یا خلا میں موجود سیٹلائٹ سے۔
اسپیس 42 نے متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ای اینڈ یو اے ای (e& UAE) اور انڈونیشیا کی Telkomsat کے ساتھ تکنیکی تعاون، لائسنسنگ اور ممکنہ فیلڈ ٹرائلز کے لیے معاہدے بھی کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عام صارفین تک یہ سہولت پہنچانے کے لیے ابھی فون ہارڈویئر، سافٹ ویئر، ریگولیٹری منظوری اور مناسب قیمت جیسے چیلنجز حل کرنا ہوں گے۔
یو اے ای کا یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ مستقبل میں موبائل فون صرف ٹاورز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ضرورت کے وقت خلا میں موجود سیٹلائٹس سے بھی جڑ سکیں گے۔







