
خلیج اردو
دبئی پولیس نے ایک ایسے موٹر سائیکل سوار کو طلب کر لیا ہے جو 290 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پر بائیک چلاتے ہوئے خطرناک کرتب دکھا رہا تھا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
ویڈیو میں بائیکر کو ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلانے، تیز رفتاری سے گاڑیوں کے درمیان خطرناک انداز میں راستہ بنانے اور دیگر غیر ذمہ دارانہ حرکات کرتے دیکھا گیا۔
دبئی پولیس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ٹریفک بریگیڈیئر جمعہ سالم بن سویدان کے مطابق اسپیشل ٹریفک گشت نے ویڈیو سامنے آنے کے بعد بائیکر کی شناخت کی اور اسے حراست میں لے لیا۔
پولیس نے موٹر سائیکل ضبط کر لی ہے جبکہ بائیکر کو مزید قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ موٹر سائیکل کی واپسی کے لیے 50 ہزار درہم امپاؤنڈ فیس ادا کرنا ہوگی، اس کے علاوہ دیگر قانونی کارروائیاں بھی مکمل کرنا ہوں گی۔
بریگیڈیئر بن سویدان نے کہا کہ 290 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار پر موٹر سائیکل چلانا انتہائی خطرناک عمل ہے کیونکہ ایسی رفتار پر سوار کے لیے موٹر سائیکل کو قابو میں رکھنا، اچانک صورتحال پر ردعمل دینا یا محفوظ طریقے سے رکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اتنی تیز رفتاری سے حادثے کی صورت میں موٹر سائیکل سوار دور تک جا سکتا ہے اور رکاوٹوں، سڑک کے کناروں یا مخالف سمت سے آنے والی گاڑیوں سے ٹکرا کر جان لیوا یا مستقل معذوری کا شکار ہو سکتا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گاڑیوں کے درمیان خطرناک انداز میں بائیک چلانے سے دیگر ڈرائیورز بھی شدید خطرے میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ عام ڈرائیور کو لین تبدیل کرنے یا ردعمل دینے کا مناسب وقت نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ ایک پہیے پر موٹر سائیکل چلانا بھی انتہائی خطرناک اسٹنٹ ہے، جس سے بائیک کا توازن، اسٹیئرنگ اور بریکنگ صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور سڑک کی معمولی خرابی، ہوا یا رکاوٹ بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔
دبئی پولیس نے واضح کیا کہ جدید نگرانی نظام اور فیلڈ گشت کے ذریعے خطرناک ڈرائیونگ کرنے والوں کی نشاندہی اور کارروائی جاری رہے گی۔
پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کو ہدایت کی ہے کہ سڑکوں کو اسٹنٹس یا رفتار کے مقابلوں کے لیے استعمال نہ کریں اور اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل کریں۔







