
خلیج اردوبھارت کی ریاست کیرالہ میں سرکاری ملازمتوں کے لیے ہونے والے امتحانات میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خلاف امیدواروں کا احتجاج تقریباً ایک ماہ سے جاری ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیکڑوں امیدوار جو سرکاری ملازمتوں کے امتحانات پاس کرچکے ہیں لیکن تاحال انہیں تقرری نہیں ملی، ریاستی دارالحکومت ترواننت پورم میں سرکاری سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔
مظاہرین کی جانب سے کیرالہ پبلک سروس کمیشن (KPSC) کے چیئرمین سے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ امیدواروں کا کہنا ہے کہ امتحانات، پرچوں کی جانچ اور امیدواروں کی درجہ بندی کا نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔
مظاہرین نے ریاستی حکومت کے رویے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی رہنما نئی دہلی میں NEET سے متعلق احتجاج کی حمایت کرتے ہیں لیکن کیرالہ میں پبلک سروس کمیشن کے امیدواروں کے احتجاج کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
امیدوار احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟
مظاہرین کے مطابق بعض امیدوار امتحانات پاس کرنے کے بعد رینک لسٹ میں شامل ہونے کے باوجود سرکاری ملازمتوں کے لیے تقرری کے منتظر ہیں۔
پرائمری ٹیچر کے امتحانات میں کامیاب بعض امیدواروں کو بھی تاحال تقرری نہیں مل سکی۔ احتجاج کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ بعض شعبوں میں خالی آسامیوں کی تعداد درست طور پر ظاہر نہیں کی گئی جس کے باعث رینک لسٹ میں شامل متعدد امیدوار ملازمت حاصل نہیں کرسکے۔
امیدواروں نے امتحانات اور KPSC کے نظام میں مبینہ غیر منصفانہ مارکنگ اور کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
تحقیقات میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض اعلیٰ رینک حاصل کرنے والے امیدواروں نے جانچ کے عمل میں مبینہ ردوبدل کے ذریعے غیر معمولی نتائج حاصل کیے۔ بعض بھرتی امتحانات کے سوالیہ پرچوں کی تقسیم میں بھی بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
کرپشن کے الزامات پر تحقیقات جاری
کیرالہ کرائم برانچ کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) نے 31 جولائی کو ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کے چیف کے عہدے کے لیے ہونے والے KPSC امتحان کی جانچ کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے امیدوار، جن کی شناخت کیرالہ کے اخبار منورما نے ارون جے پرتاپ کے نام سے کی، نے مبینہ طور پر 10 سوالات حل ہی نہیں کیے تھے۔ تحقیقاتی ٹیم کو شبہ ہے کہ انہیں پہلی پوزیشن دلانے کے لیے جانچ کے عمل میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا۔
SIT اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا امتحانات کے عمل میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت ہوئی تھی۔
مختلف پبلک سروس کمیشن امتحانات کے حوالے سے شکایات میں اضافے کے بعد تحقیقاتی ٹیم کو بھی وسعت دی گئی ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔







