
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں جاری شدید گرمی کے موسم میں جلد کمی آنے کی امید ہے۔ امارات فلکیاتی سوسائٹی کے چیئرمین ابراہیم الجروان کے مطابق عید القیظ یعنی عروجِ گرمی کے آخری ستارے 11 اگست کو طلوع ہوں گے۔
امارات میں شدید خشک گرمی کا دورانیہ عموماً جون کے آغاز میں شروع ہوتا ہے اور جولائی و اگست میں اپنے عروج پر پہنچتا ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق 24 اگست کو سہیل ستارہ طلوع ہوگا، جس کے بعد درجہ حرارت میں بتدریج کمی اور گرمی کی شدت میں کمی کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔
روایتی طور پر سہیل ستارے کو ’’ستارۂ یمن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے نظر آنے کے بعد تقریباً 40 دن کا عبوری دور شروع ہوتا ہے جسے ’’صفریہ‘‘ کہا جاتا ہے، جس دوران موسم شدید گرمی سے نسبتاً ٹھنڈے حالات کی طرف منتقل ہوتا ہے۔
رواں موسم گرما میں یو اے ای میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے مطابق 5 اگست کو ملک میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 51.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
شدید گرمی کے باوجود حالیہ دنوں میں یو اے ای کے بعض علاقوں میں غیر یقینی موسمی حالات دیکھنے میں آئے، جہاں بارش نے شہریوں کو گرمی سے عارضی ریلیف فراہم کیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مناسب بادل بننے کی صورت میں کلاؤڈ سیڈنگ پروازیں بھی چلائی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف شدید گرمی بارش کے لیے کافی نہیں ہوتی بلکہ نمی، ہوا کے دباؤ میں تبدیلی، بالائی فضائی لہریں اور سازگار ہوائیں بھی ضروری ہوتی ہیں، جن کے ملنے سے 50 ڈگری درجہ حرارت میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔







