خلیج اردو
25 ستمبر 2020
اسلام آباد: پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دنیا کے پاس کورونا وائرس کی شکل میں ایک موقع آیا تھا کہ نفرتوں کے خاتمے کیلئے ملکر کام کرتے اور انسانیت کی خدمت کرتے لیکن بدقسمتی سے اسے ضائع کیا گیا اور آج بھی دنیا میں کچھ ممالک نفرت ، تعصب اور نسل پرستی سمیت بدامنی پھیلانے والی پالیسیوں پر کاربند ہیں۔ کورونا کی وجہ سے متحد ہونے کے بجائے مختلف ممالک، قوموں، مذاہب اور فرقوں کے درمیان مزید اختلافات بڑھ گئےہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان اختلافات نے اسلام مخالف جذبات کو بھڑکایا ۔ مختلف ممالک میں مسلمانوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا گیا۔ مزارات کو توڑا گیا ، مسلمانوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی گئی اور سب سے بڑھ کر ہمارے نبی ﷺ اور ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی ۔ یہ سب کچھ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کیا گیا جس کی مثال چارلی ہیبڈو میں دوبارہ شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے ہیں۔
وزیراعظم خان نے عالمی دنیا سے مطالبہ کیا کہ اسلاموفوبیا کا خاتمہ کرنے کے لیے عالمی دن منانے کا اعلان کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے 75 ویں جنرل اسمبلی اجلاس خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس، خطے میں اسلحے کی دوڑ، مسلمانوں کے مذاہب کی گستاخی کرنے والے خاکوں کی اشاعت، کشمیر میں بھارت کی مظالم، فلسطین اسرائیل تنازع، ماحولیات کو درپیش چیلنجز اور اقوام متحدہ و سلامتی کونسل میں بڑے پیمانے پر اصلاحات جیسے اہم معاملات کا احاطہ کیا۔
تقریبا 27 منٹ کے ریکارڈ شدہ خطاب کی شروعات وزیر اعظم خان نے پاکستان میں اپنی حکومت قائم ہونے کے بعد بنیادی اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کی اور بتایا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نئے پاکستان کی بنیاد 14 سو سال قبل قائم کئے گئے ریاست مدینہ کے اصولوں پر رکھی جس کے قیام کیلئے امن و استحکام کی ضرورت ہے۔ اسی لیے میری حکومت کی خارجہ پالیسی میں خطے کے امن کو خاص ترجیح دی گئی ہے۔
وزیراعظم خان نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کامقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات، مسائل کابات چیت سےحل ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی شخص محفوظ نہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس میں پاکستان نےاسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی، پاکستان میں ہم نےسخت لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ کورونا وبا کے دوران 8ارب ڈالر سے صحت سہولیات اور غریب افرا دکی مدد کی گئی۔ہم نہ صرف کوروناسےنمٹنے میں کامیاب ہوئےبلکہ معیشت کو بھی استحکام دیا۔
مسٹر خان نے کہا کہ ہم نے3سال میں 10ملین درخت لگانےکا منصوبہ بنایاہے، حکومت کی تمام پالیسیوں کامقصد شہریوں کےمعیار زندگی میں اضافہ ہے، ہم نےنبی پاک ﷺکی ریاست مدینہ کےتصورپرنئےپاکستان کاماڈل تشکیل دیا ہے
وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں اور قلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دی جارہی ہے۔ ان کے خلاف قوانین بنائے جاتے ہیں۔ ہندوبالادستی کی پالیسیاں اپنائی گئی ہیں جس سے ایک انتہا پسند طبقہ ابھررہا ہے جو ہندؤں کے علاوہ سب کو برابر کے انسان نہیں سمجھتے اور وہ خود کو مقدس اور افضل ذات سمجھتے ہیں۔
وزیراعظم خان نے کہا کہ وہ ملک جو امن کے داعی گاندھی جی نے آزاد کیا تھا آج ایک شدت پسند اور انتہا پسند مذہبی گروپ کی قبضے میں ہیں جن کی پالیسیاں دوسرے مذاہب کی عبادگاہوں کی توہین، ان کی نسل کشی اور ان کی زندگیاں اجیرن بنانے کے سوا کچھ نہیں۔ عمران خان نے بھارتی جنتا پارٹی کی تنظیم آر ایس ایس کا حوالا دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ 1920 میں نازیوں سے متائثر ہوکر بنایا گیا تھا اور آج کی جدید دنیا میں نازیوں کی شکل میں آر ایس ایس کی سرپرستی میں بھارتی سرکار موجود ہے۔
بھارت کی زیر انتظام کشمیر میں بھارتی سرکار کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں فوجیوں کی تعیناتی کا حوالا دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آئے روز کشمیریوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کی بنیادی انسانی حقوق کو سلب کیا گیا ہے اور ان کو اقوام متحدہ کی جانب سے دیئے گئے استوصواب رائے کا حق چھینا گیا ہے۔انہوں نے اقوام عالم سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔
عمران خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پر ہمیں پریشان ہونا چاہیے گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسم شدید ہوگئے ہیں۔ آسٹریلیا، امریکا کی جنگلوں میں آگ لگ رہی ہے۔ دنیا بھر میں بارشوں اور سیلاب میں اضافہ ہوگیا ہے ایسے مین اپنی آنے والی نسلوں کے تحفظ کیلئے دنیا کو پیرس معاہدے پر مکمل طور پر عمل کرنا چاہیے
وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ جس مقصد کیلئے اقوام متحدہ بنا تھا وہ پورا ہوا؟ جو وعدے بطور اقوام متحدہ ہم نے اقوام سے کیے تھے وہ پورے کرسکے؟ آج طاقت کے یکطرفہ استعمال سے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جارہا ہے۔ چھوٹی اقوام کی خود مختاری پر حملے کیے جارہے ہیں ان کی داخلی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے اور منظم طریقے سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے۔
مسٹر خان نے کہا کہ آج بین الاقوامی معادوں کو پس پشت ڈالا جارہا ہے، سپر پاور بننے کے خواہاں ممالک کے درمیان اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا ۔






