متحدہ عرب امارات

دبئی میں گوشت پیسنے والی مشینوں میں پھنسے مزدوروں کے ہاتھ بچانے کے لیے پولیس کے ماہر ریسکیو اہلکاروں کی خطرناک کارروائیاں

خلیج اردو
دبئی میں گوشت پیسنے والی صنعتی مشینوں میں کارکنوں کے ہاتھ پھنسنے کے بعض انتہائی پیچیدہ واقعات میں دبئی پولیس کی خصوصی ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ افراد کے ہاتھ کٹنے سے بچائے ہیں۔ ایسے حادثات میں بعض اوقات ہسپتال پہنچنے کے بعد بھی ڈاکٹروں کے لیے مشین سے پھنسے ہوئے ہاتھ کو محفوظ طریقے سے نکالنا ممکن نہیں ہوتا، جس کے بعد تکنیکی ریسکیو ٹیموں کو طلب کیا جاتا ہے۔

دبئی پولیس کے جنرل ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹ اینڈ ریسکیو کے سرچ اینڈ ریسکیو شعبے کے ڈائریکٹر کرنل خالد الحمادی کے مطابق ریسکیو ٹیمیں ریسٹورنٹس اور شاپنگ سینٹرز میں صنعتی گوشت پیسنے والی مشینوں میں کارکنوں کے ہاتھ پھنسنے کے متعدد واقعات پر کارروائی کر چکی ہیں۔

ان کے مطابق ایسے حادثات عموماً توجہ کی کمی، مناسب تربیت نہ ہونے یا مشینری کے غلط استعمال کے باعث پیش آتے ہیں۔ ان مشینوں میں ایسے حفاظتی انتظامات ہونا ضروری ہیں جو کارکنوں کو خطرناک حصوں تک پہنچنے سے روک سکیں۔

کرنل خالد الحمادی کا کہنا تھا کہ دبئی پولیس کی ذمہ داری صرف بڑے حادثات یا قدرتی آفات تک محدود نہیں بلکہ ٹیمیں ایسے انتہائی حساس واقعات سے نمٹنے کے لیے بھی تربیت یافتہ ہیں جہاں جسم کا کوئی حصہ مشین میں پھنس جائے اور اسے عام طبی آلات کے ذریعے نکالنا ممکن نہ ہو۔

طاقت کے بجائے مہارت اور درستگی

ریسکیو ٹیمیں مشین کو توڑنے یا متاثرہ شخص کے ہاتھ کو زبردستی نکالنے کے بجائے خصوصی کٹنگ آلات اور انجینئرنگ تکنیک استعمال کرتی ہیں۔ مشین کے مختلف حصوں کو انتہائی احتیاط سے کھولا یا بعض اوقات مشین کے میکانزم کو الٹی سمت میں حرکت دی جاتی ہے تاکہ متاثرہ شخص کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

ایک واقعے میں ایک کارکن کا ہاتھ گوشت پیسنے والی مشین میں پھنس گیا۔ اسے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز بھی مشین سے ہاتھ نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد دبئی پولیس کی تکنیکی ریسکیو ٹیم نے خصوصی بھاری آلات استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ آپریشن کیا اور کارکن کا ہاتھ مشین سے نکال لیا۔

ایک دوسرے واقعے میں ریسٹورنٹ میں ایک کارکن کا ہاتھ گوشت پیسنے والی مشین میں پھنس گیا اور اس کی حالت اتنی نازک تھی کہ اسے ہسپتال منتقل کرنا ممکن نہیں تھا۔ ریسکیو ماہرین موقع پر پہنچے اور وہیں مشین کو کھول کر کارکن کو آزاد کیا جس کے بعد اسے فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

وہ ریسکیو آپریشن جس نے مزدور کا ہاتھ کٹنے سے بچا لیا

دبئی پولیس کے لینڈ ریسکیو سیکشن کے سربراہ کرنل عبداللہ علی بشواح نے ایک یادگار ریسکیو آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ریسٹورنٹ کارکن کا ہاتھ گوشت پیسنے والی مشین میں بری طرح پھنس گیا تھا اور اسے شدید چوٹیں آئی تھیں۔

کارکن کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ مزید سنگین پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے پورا ہاتھ کاٹنا پڑ سکتا ہے۔

آپریشن شروع ہونے سے قبل ریسکیو اہلکاروں نے ڈاکٹروں سے مشین کھول کر ہاتھ نکالنے کی ایک اور کوشش کی اجازت طلب کی۔ خصوصی ریسکیو آلات اور انتہائی احتیاط سے مشین کے میکانزم کو الٹی سمت میں حرکت دی گئی اور بالآخر کارکن کا ہاتھ مشین سے آزاد کرا لیا گیا۔

اس کارروائی کے نتیجے میں کارکن اپنا پورا ہاتھ کھونے سے بچ گیا اور اسے صرف چند انگلیوں پر چوٹیں آئیں۔ کرنل عبداللہ علی بشواح کے مطابق نوجوان نے ریسکیو ٹیم کا بھرپور شکریہ ادا کیا جبکہ ڈاکٹروں نے بھی ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔

بچوں کے لیے بھی خطرناک صورتحال

دبئی پولیس کی ریسکیو ٹیمیں صرف صنعتی مشینری کے حادثات تک محدود نہیں بلکہ لفٹس اور ایسکلیٹرز میں پھنسنے والے بچوں کو بھی ریسکیو کرتی ہیں۔

ایک واقعے میں ایک بچے کا پورا ہاتھ ایسکلیٹر میں پھنس گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر ایسکلیٹر بند کیا، اس کے میکانزم کا ایک حصہ کھولا اور بچے کا ہاتھ محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا، جس سے اسے مزید سنگین چوٹوں سے بچا لیا گیا۔

دبئی پولیس نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کو شاپنگ مالز اور دیگر عوامی مقامات پر ایسکلیٹرز اور لفٹس کے قریب کبھی غیر نگرانی میں نہ چھوڑیں۔ پولیس کے مطابق بچے اکثر تجسس یا لمحاتی لاپرواہی کے باعث ایسکلیٹر کے متحرک حصوں کے قریب چلے جاتے ہیں یا گری ہوئی چیز اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے ان کی انگلیوں اور ہاتھوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حادثات سے بچاؤ میں چند سیکنڈ کی احتیاط انتہائی اہم ہے کیونکہ معمولی سی لاپرواہی بھی ایسی چوٹ کا سبب بن سکتی ہے جو پوری زندگی متاثر کر دے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button