خلیج اردو آن لائن:
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران عہد کیا ہے کہ بھارت کی ویکسین پیدا کرنے صلاحیت کورونا کے خلاف جنگ کے لیے تمام دنیا کو دستیاب ہوگی۔
مودی کا اقوام متحدہ میں تقریر کا دوران کہنا تھا کہ ” ویکسین بنانے والا دنیا کے سب سے بڑا ملک ہونے کے ناطے میں عالمی برادری کو ایک اور یقین دہانی کروانہ چاہتا ہوں بھارت کی ویکسین بنانے ڈلیوری کی صلاحیت اس بحران کے خلاف نبرد آزما انسانیت کی مدد کے لیے استعمال کی جائے گی”۔
مودی کا تقریر کے دوران مزید کہنا تھا کہ بھارت ویکسین کے فیز تھری کے تجربات کر رہا ہے اور وہ تمام ممالک کو ویکسین کی ڈلیوری اور کولڈ چین کی صلاحیت بڑھانے میں مدد فراہم کرے گا۔
اور بھارت سائنس دانوں کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد اگست میں کورونا ویکسین بڑے پیمانے پر پیدا کرنے کے لیے تیار تھا۔
خیال رہے کہ اس وقت دنیا میں سب سے پہلے کورونا ویکسین بنانے اور اپنے ملک کے باشندوں کے لیے پیدا کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر ملک کی کوشش ہے کہ وہ صرف اپنے شہریوں کے لیے سب سےپہلے ویکسین حاصل کر لے۔
خود غرضی کی اس دوڑ نے اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسی کے پیش نظر اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری انتونیو گٹیرس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض ملک صرف اپنی عوام کے لیے ویکسین حاصل کرنے کے سمجھوتے کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہ ” ویکسی نیشنل ازم غیر منصفانہ ہی نہیں خود شکستی کے مترادف بھی ہے، اگر ہم سب محفوظ نہیں ہیں تو ہم میں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے اور ہر شخص یہ بات جانتا ہے”۔
اس کے علاوہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ مورسن نے بھی جنرل اسمبلی کے خطاب کے دوران کہا کہ ” جو ملک بھی سب سے پہلے ویکسین بناتا ہے اسے یہ ویکسین سب کے ساتھ بانٹنی چاہیے”۔
انکا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے آسٹریلیا کا موقف بہت واضح ہے وہ یہ کہ اگر ہم سب سے پہلے ویکسین بناتے ہیں تو ہم سے تمام ممالک کے ساتھ شیئر کریں گے۔
Source: Khaleej Times







