پاکستانی خبریں

مولانا فضل الرحمن اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا سربراہ مقرر

خلیج اردو
03 اکتوبر 2020
اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی۔ڈی۔ایم) کے سربراہی اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کو اتفاق رائے سے پی ڈیم ایم کا پہلا صدر منتخب کر لیا گیا۔ اجلاس میں نوازشریف، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر جماعتوں کے سربراہان نے شرکت کی۔


پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی۔ڈی۔ایم) کے ورچوول اجلاس میں تمام جماعتوں کے سربراہان نے مولانا فضل الرحمان کو متفقہ طور پر پی ڈی ایم کا صدر منتخب کرلیا ۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کا نام تجویز کیا اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے تائید کی۔

اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے کہا کہ روٹیشن کی بنیاد پہ صدر کے عہدہ کی مدت کا تعین، دیگر مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کا چناؤ پی ڈی ایم سٹئیرنگ کمیٹی کرے گی۔ پی ڈی ایم کی سٹئیرنگ کمیٹی کا اجلاس پانچ اکتوبر کو طلب کیاگیا ہے۔ کمیٹی پی ڈی ایم کے احتجاجی تحریک کے پروگرام کو حتمی شکل بھی دے گی ۔

احسن اقبال نے کہا کہ تمام جماعتیں جلسے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کریں گی-مولانا فضل الرحمن کی قیادت اور بصیرت پر پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے بھرپور اعتماد کا اظہار کیاہے۔

اس ورچووئل اجلاس میں دو قرار دادیں متفقہ طور منظور پر منظور کی گئیں جس میں کہا گیا ہے کہ سلیکٹڈ مینڈیٹ چور حکومت کا پی ڈی ایم کو بھارت سے جوڑنا اس کے حواس باختہ ہونے کی دلیل ہے۔ تین مرتبہ عوام کے منتخب ،جوہری دھماکہ کرنے والے وزیر اعظم پر ملک دشمنی کا الزام قابل مذمت ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں، گھریلو خواتین کو کٹہروں میں لانا کم ظرفی کی انتہاءہے۔ اپوزیشن راہنماؤں کی گرفتاری گلگت بلتستان کے انتخابات چرانے کی سازش ہے۔ گرفتاریوں اور بھارت کارڈ استعمال کرکے پی ڈی ایم کی آئینی اور جمہوری تحریک اب نہیں رُکے گی:۔مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی کی ستائی عوام جعلی حکومت سے نجات چاہتے ہیں۔

اجلاس میں نوازشریف، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمن سمیت ڈاکٹر عبدالمالک ، سردار اختر مینگل، آفتاب احمد خان شیرپاو، امیر حیدر ہوتی، پروفیسر ساجد میر، اویس نورانی، احسن اقبال شریک ہوئے اجلاس میں سابق وزراءاعظم یوسف رضاگیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی ،شیری رحمن، مریم اورنگزیب اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button