خلیج اردو
17 اکتوبر 2020
پیرس: فرانس کے درالحکومت پیرس میں ایک حملہ آور نے ایک استاد کا سرقلم کر دیا۔ اسکول ٹیچر نے مبینہ طور پر اپنے طلبا کو پیغمبر اسلام کے متنازع خاکے دکھائے تھے۔پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
بی بی سی اردو کے مطابق ایک چاقو بردار شخص نے ایک سکول ٹیچر پر پیرس کے نواحی علاقے کفلان سینٹے ہونورائن میں حملہ کرتے ہوئے اس کا سر قلم کر دیا ہے۔ قتل کے بعد حملہ آور نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود لوگوں نے فوراً پولیس کو اطلاع دے دی۔
پولیس کا جائے وقوعہ کے قریبی علاقے میں ہی حملہ آور سے سامنا ہو گیا اور جب انھوں نے اسے گرفتاری دینے کا کہا تو اس نے پولیس کو دھمکانے کی کوشش کی۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب 2015 میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں قاتلانہ حملے کرنے والے دو افراد کی سہولت کاری کے الزام میں 14 افراد پر مقدمہ چل رہا ہے۔ مزکورہ واقعے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی سے جڑے ایک واقعے میں تین ہفتے قبل بھی ایک حملہ آور نے اس میگزین کے سابقہ دفاتر کے باہر حملہ کر کے دو افراد کو زخمی کیا تھا۔
فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس قاتلانہ حملے کو ‘اسلامی دہشت گردانہ حملہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ استاد کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ ‘اظہار رائے کی آزادی کے متعلق پڑھاتے تھے۔’
حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والے استاد اور حملہ اور دونوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ۔
پیغمبر اسلام کی شان میں توہین کا مسئلہ کافی سنجیدہ ہے تاہم مغرب اس کی حساسیت کو نہ سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات کو اظہار رائے کی آزادی سمجھتے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اکثر عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے موقف اپناتے ہیں کہ دنیا آزادی اظہار کی آڑ میں اربوں مسلمانوں کی دل آزاری سے باز آئیں۔ انہون نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت دنیا کو ایک بند گلی میں دکھیلے گی اسی وجہ سے دنیا مسلمانوں سے نفرت کے خلاف ایک عالمی دن منائے۔
Source : BBC







