پاکستانی خبریں

افسوسناک خبر : ہمیں دکھی دل کے ساتھ قبول کرنا ہوگا کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھی خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔

خلیج اردو
18 فروری 2021
عاطف خان خٹک

سکردہ : موت ایک حقیقی ہے اور ہر زی روح کو اس حقیقی راستے پر چلنا ہوگا۔ ایسے میں کچھ لوگ اپنے کام کی وجہ سے مرنے کے بعد آمر ہو جاتے ہیں اور ہمیں یہ انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ علی سدپارہ اور اس کے ساتھ پہاڑوں کی محبت میں آمر ہو گئے ہیں۔

اس بات کا اعلان پہاڑوں کے عاشق اور پاکستان کے قومی ہیرو محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے گلگت بلتستان حکومت صوبائی وزیر سیاحت راجا ناصر علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ علی سدپارہ اپنے دو غیر ملکی ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہوئے ہیں۔ مجھے اور کئی انٹرنیشنل کوہ پیماوں کو یقین ہے کہ انھیں کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر حادثہ پیش آیا ہے اور جس بلندی پر حادثہ ہوا تھا وہاں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔

ساجد سدپارہ نے کہا کہ میرا خاندان انتہائی شفیق باپ سے، پاکستانی قوم سبز ہلالی پرچم سے جنون کی حد تک عشق کرنے والے محب وطن قومی ہیرو سے جبکہ دنیا ایک بہادر اور با صلاحیت مہم جو سے محروم ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ دکھ اور غم کی اس گھڑی میں ہم سب ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے ، اعلان کیا کہ میں اپنے والد کے مشن کو جاری رکھوں گا اور ان کے ادھورے خواب پورے کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کی محبت میرے خاندان کیلئےانتہائی حوصلے اور ہمت کا باعث بنی ہے ۔ملک کے وزیر اعظم عمران خان اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، عسکری ایوی ایشن اسکردو کے بہادر پائلٹس، وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اور فورس کمانڈر میجر جنرل جواد قاضی، سابق فورس کمانڈر جنرل احسان محمود کا انتہائی مشکور ہوں، کیونکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال کئے گئے اور اس طویل ریسکیو آپریشن میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ انہوں نے ورچوئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا۔

https://twitter.com/Saajid_Sadpara/status/1362350453758058502

ساجد سدپارہ کے ٹویٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ میرے والد محترم علی سدپارہ سمیت دیگر کوہ پیما اب اس دُنیا میں نہیں رہیں.
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

5 فروری کو محمد علی سدپارہ اور ان کے ساتھی 8200 کی بلندی پر بوٹل نک کراس کر چکے تھے کہ اْن سے مواصلاتی رابطہ کٹ گیا ۔ اس کے بعد سے تاحال محمد علی سدپارہ و ساتھی لاپتہ ہیں ۔ جبکہ مہم میں شریک ساجد سدپارہ کے مطابق انکے والد اور ساتھیوں نے چوٹی سر کر لی تھی اور واپسی پر یہ افسوسناک حادثہ ہوا۔

Source : Tribune

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button