
خلیج اردو
راس الخیمہ میں ایک پاکستانی ہائیکنگ گائیڈ فیصل شمانی کی بروقت کارروائی نے ایک خاتون کی جان بچا لی۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خاتون شدید ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو کر بے ہوشی اور دوروں کی کیفیت میں چلی گئی۔
فیصل شمانی، جو “فیسی” کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، ایک گروپ کے ساتھ “اسٹیئر وے ٹو ہیون” ٹریک پر موجود تھے جب انہیں ایمرجنسی کی اطلاع ملی۔ وہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور ابتدائی طبی امداد دیتے ہوئے خاتون کے جسم کا درجہ حرارت کم کرنے کی کوشش کی۔
دشوار گزار اور دور دراز علاقے کے باعث فوری ریسکیو ممکن نہ تھا، جس پر انہوں نے نیم بے ہوش خاتون کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر تقریباً تین گھنٹے تک پیدل سفر کیا اور اسے ایمرجنسی سروسز تک پہنچایا۔ بعد ازاں خاتون کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں علاج کے بعد اس کی حالت بہتر ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک ایک خطرناک طبی ایمرجنسی ہے جس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر نہایت ضروری ہیں۔ شدید گرمی میں ہائیکنگ کے دوران مناسب پانی، ہلکے کپڑے اور درست وقت کا انتخاب انتہائی اہم ہے۔
فیصل شمانی نے ہائیکرز کو خبردار کیا کہ موسم گرما میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے، اس لیے صبح سویرے یا شام کے وقت ہائیکنگ کی جائے اور جسمانی علامات جیسے چکر، متلی اور تھکن کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف انسانی ہمدردی کی مثال ہے بلکہ مشکل حالات میں بروقت فیصلے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔







