خلیج اردو
26 مارچ 2021
نیویارک : کرونا کی ویکسین بنانے والی کمپنی فائزر نے ویکسین کے بعد اب منہ سے کھانی والی دوا کی تیاری کیلئے ابتدائی مطالعہ مکمل کر لیا ہے۔ منگل کو دواساز کمنی فائزر نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ یہ دوا کسی شخص کو کرونا وائرس کا انفیکشن ہو جانے کے بعد کارآمد ہوگی۔
جرمنی کے بائیو ٹیک ٹیک ایس اے کے ساتھ امریکہ میں پہلی کرونا ویکسین بنانے والی فائزر کمپنی نے کہا ہےکہ اینٹی ویرل دوا نے لیب اسٹڈیز میں SARS-CoV-2 وائرس کے خلاف قوی ردعمل پر مبنی سرگرمی ظاہر کی جو کرونا وائرس کا سبب بنتا ہے۔
فائزر کے اس ممکنہ دوائی جس کا نام PF-07321332 ہے ، پروٹیز روکنا ہے جو خلیوں میں وائرس کی نقل وحرکت روکتا ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ پروٹیز روکنے والے دوسرے وائرس والے پیتھوجینز جیسے کہ ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی وائرس کا علاج خود سے اثر کرتے ہیں اور یہ دونوں دوسرے اینٹی وائرل کے ساتھ مل کر موثر ہیں۔
فائزر کمپنی کا خیال ہے کہ اس دوا سے کوڈ 19 کے اثرات کے خلاف کام کیا جا سکتا ہے۔ دواساز کمپنی اسپتال میں داخل کرونا وائرس کے مریضوں کے ابتدائی مرحلے کے کیسز کے خلاف انٹرا ویران اینٹی وائرل امیدوار کا بھی مطالعہ کر رہی ہے۔
فائزر کے چیف میڈیکل آفیسر میکیل ڈولسٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ویکسین اور دوا دونوں ملکر یہ ممکن ہو پائے گا کہ کرونا وائرس کا انسداد کیا جا سکے۔
Source : Khaleej Times







