خلیج اردو آن لائن:
فسلطینی حکام کے مطابق جمعرات کے روز اسرائیلی فورسز نے تین فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ جبکہ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فلسطینی مطلوبہ ملسح افراد کے خلاف کیے گئے آپریشن میں ممکنہ غلط شناخت کے نتیجے میں فورسز کا نشانہ بنے۔
ایک اسرائیلی سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص پر اسرائیلی فوج پر فائرنگ کرنے کا شبہ تھا۔ جبکہ دیگر دو افراد فلسطینی حکام کی سیکیورٹی فورسز کے ممبر تھے اور وہ اسرائیل اور مشتبہ شخص کے درمیان ابتدائی فائرنگ کے تبادلے کے عینی شاہد تھے۔
بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی (پی اے) طویل عرصے سے تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات کے باوجود مغربی کنارے میں سیکیورٹی کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعاؤن کرتے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پی اے اہلکار اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ شاذ و نادر ہی تصادم کرتے ہیں اور عام طور پر ویسٹ بینک میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں میں حصہ نہیں لیتے۔
تاہم، اسرائیلی حکام کا اس واقعہ کے حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ایک فلسطینی گن مین ہلاک ہوگیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی اسپیشل فورسز اور کچھ خفیہ اہلکار اس شہر میں مسلح افراد کو حراست میں لینے کے لئے گئے تھے جس پر شبہ تھا کہ اس نے حال ہی میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا ہے۔
اطراف میں فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں ایک مسلح شخص جانبحق جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔ جسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ گن فائر کی آواز سن کر قریبی کمپاؤنڈ سے آنے والے فسلطینی سیکیورٹی آفسروں نے اسرائیلی اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ "ایسا لگتا ہے کہ فلسطینی سیکیورٹی افسروں نے خفیہ اہلکاروں پر فائرنگ جس کے بعد ہمارے اہلکاروں نے یہ سوچتے ہوئے جوابی فائرنگ کی کہ شاید فلسطینی افسروں کی جانب سے فائرنگ بھی مطلوبہ دہشت گردوں کی جانب کی جانے والی فائرنگ کا نتیجہ ہے”۔
Source: Khaleej Times







