خلیجی خبریںمتحدہ عرب امارات

دبئی میں پریشان سعودی شہری بسوں کے ذریعہ سفر پر مجبور

خلیج اردو: متحدہ عرب امارات سے آنے والی پروازوں پر پابندی کے بعد دبئی جانے والے سعودی شہری واپسی کے لیے پریشان ہیں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق پروازوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ بسوں کے ذریعہ سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ دبئی سے سعودی عرب بری سفر کی سروس حالات کی پیداوار ہے جو اس سے پہلے انتہائی محدود تھی۔
سعودی حکومت کی طرف سے تین ممالک سے پروازوں پر پابندی کانفاذ آج رات 11 بجے سے ہوگا تاہم اعلان کے بعد سے لے کر اب تک مذکورہ ممالک سے واپس آنے والے شہریوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امارات میں پروازوں کی عدم دستیابی اور سیٹیں نہ ملنے کی وجہ سے سعودی عرب لے جانے والی بس سروس کا کاروبار اچانک چمک اٹھا ہے۔
دبئی میں موجود ایک شہری محمد عسیری نے کہا ہے کہ ’میں 10 دن کے لیے دبئی آیا تھا اور اچانک پابندی کا فیصلہ ہوگیا‘۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ’سیٹوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے دبئی اور دیگر شہروں سے بس سروس شروع کی گئی ہے‘۔
’یہ چیز اس سے پہلے معروف نہیں تھی، لوگ واپس جانے کے لیے بس کے ذریعہ سفر پر مجبور ہیں‘۔

دبئی میں موجود سعودی شہریوں نے کہا ہے کہ ’حالات سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں نے بس سروس شروع کر دی جسے اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘۔
’دبئی میں سان ریجنسی ہوٹل کے سامنے بسوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو 24 گھنٹے کام کر رہی ہے۔ اسی طرح شارجہ میں کنگ فیصل مسجد کے سامنے شٹل سروس ہے جو مسافروں کو الاحسا تک پہنچا رہی ہے‘۔
’الاحسا پہنچنے کے بعد سعودی شہری فضائی راستے سے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو رہے ہیں‘۔
’امارات سے سعودی عرب کے شہر الاحسا تک بس کا کرایہ 300 ریال سے 400 ریال کے درمیان ہے‘۔
بسوں کے ذریعہ واپس آنے والے سعودی شہریوں کا کہنا ہے کہ ’فضائی راستے سے اگر سیٹ مل بھی گئی تو اس کی قیمت 5000 ریال تک ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button