
خلیج اردو
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ امیر خسرو کے کلام سے انہیں طاقت ملتی ہے، اور صوفی روایت صرف مساجد اور خانقاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے بھارت میں اپنی ایک منفرد شناخت بنائی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بات نئی دہلی میں ہونے والے "جہان خسرو” کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے حضرت امیر خسرو، حضرت نظام الدین اولیاء، مولانا روم اور راسخان جیسے کئی صوفی ہستیوں اور شاعروں کا ذکر کیا جو مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے، لیکن ان کا پیغام پوری انسانیت کے لیے تھا۔
مودی نے کہا کہ "صوفی موسیقی بھارت کے عوام کی مشترکہ میراث ہے، اور اس روایت نے ہمیشہ محبت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "جہان خسرو کی اس تقریب میں ایک الگ ہی خوشبو ہے، جو روحانیت اور محبت سے جڑی ہوئی ہے۔”
بھارتی وزیراعظم نے اپنے خطاب میں رمضان المبارک کے موقع پر تمام حاضرین اور ملک کے شہریوں کو مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے مولانا روم کے فلسفے کو دہراتے ہوئے کہا کہ "وہ کسی ایک جگہ کے نہیں بلکہ ہر جگہ کے ہیں۔” مودی نے غالب کے اس پیغام کا بھی حوالہ دیا کہ "اگر دل میں عزم ہو تو کاشی اور کاشان کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ جاتا ہے۔”
ان کے اس بیان کو بھارت میں مذہبی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا مختلف تنازعات اور اختلافات کا سامنا کر رہی ہے۔







