
پشاور:خیبرپختونخوا کی حکومت نے صحت کے شعبے میں ایک بڑا اور انقلابی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کڈنی، لیور اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کا تمام خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔
کابینہ اجلاس میں سرکاری سکولوں میں مفت کتابوں کی فراہمی کے لیے فنڈ کی فراہمی کی منظوری دی گئی، اور کتابوں کی معیاری چھپائی اور دوبارہ استعمال سے متعلق پلان تیار کرنے کی ہدایت کی گئی۔ نئے تعلیمی سال میں داخلہ لینے والے بچوں کو مفت بستوں کی فراہمی کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا اور حکام کو یہ پلان کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
کابینہ نے پی ٹی سی کونسلز کے لیے سالانہ فنڈ پانچ ارب سے بڑھا کر سات ارب کرنے کی منظوری بھی دی۔ اس کے علاوہ صحت سہولت کے تحت مفت ٹرانسپلانٹ و امپلانٹ سروس دینے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں کڈنی، لیور اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
کابینہ نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کو صحت کارڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا، اور میڈیسنل کینابیس کے استعمال کے لیے رولز کی منظوری دی۔ پشاور رنگ روڈ کی تعمیر اور مہمند ڈیم سے پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے واٹر سپلائی سکیم کی منظوری بھی دی گئی۔
صوبے کے 132 تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کو سینٹیش سروسز کے لیے مشینری خریدنے کے لیے 3.6 ارب روپے فنڈ کی منظوری دی گئی۔ نوجوانوں کو فنی مہارت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اپرینٹائسشپ رولز کی منظوری بھی دی گئی، اور دینی مدارس کے لیے گرانٹ کی رقم بڑھا کر 100 ملین کرنے کی منظوری دی گئی۔
صوبائی انسپکشن ٹیم کی کارکردگی کو مستحکم کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی اور گورنر انسپکشن ٹیم کو صوبائی انسپکشن ٹیم میں ضم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔






