
خلیج اردو
کراچی:وزیراعلیٰ سندھ نے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ کچے میں مشترکہ آپریشن پلان بنانے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ حب میں مشترکہ چیک پوسٹ قائم کرنے کے لیے 214 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا مقصد سندھ اور بلوچستان کے بارڈر پر سمگلنگ اور دیگر جرائم کی روک تھام کرنا ہے۔
مزید برآں، سندھ حکومت نے فیوژن سینٹر ڈی جی نارکوٹکس آفس میں قائم کیے ہیں، اور وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ڈاکوؤں کے خلاف سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی پولیس تینوں صوبوں میں مشترکہ آپریشن کرنے کے لیے رابطے میں ہیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبوں میں اپیکس کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، جس میں سندھ حکومت کی مؤثر پالیسیوں کو سراہا گیا اور دہشت گردی، منشیات اور دیگر جرائم کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ "سندھ حکومت نے دہشت گردی اور منشیات کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں اور ہم ان اقدامات کو مزید بہتر کریں گے۔” انہوں نے بتایا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لیے کراچی میں دو سینٹرز کام کر رہے ہیں، اور مزید سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں صوبے بھر میں 31 فرینڈلی پولیس اسٹیشنز قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ دس پولیس تھانوں کو اپگریڈ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے سول ڈریس میں گارڈز کی کارروائی تیز کرنے اور پولیس لائٹس، رنگین شیشے، فینسی نمبر پلیٹس اور اسلحہ کی نمائش کے خلاف کارروائی کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ، حب پر مشترکہ چیک پوسٹ قائم کرنے کے لیے 214 ملین روپے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ سندھ-بلوچستان بارڈر پر اسمنگلنگ اور جرائم کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ "سندھ پولیس اور رینجرز کچے میں مشترکہ آپریشن کر رہی ہیں اور تینوں صوبوں کی پولیس کے درمیان رابطہ کاری سے مشترکہ آپریشن پلان تشکیل دیا جائے گا۔”
مزید برآں، وزیراعلیٰ نے چائنیز کی سکیورٹی کے لیے خصوصی یونٹ قائم کرنے اور سی پیک کے منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔
انسداد دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ "اس سال 2025 میں دہشت گردوں کے خلاف 318 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جس میں 153 مقدمات درج کر کے 84 مجرم گرفتار کیے گئے، اور 12 دہشت گرد مارے گئے۔”
اجلاس میں پولیس کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 3.6 بلین روپے مختص کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔






