
خلیج اردو
دبئی، 18 اپریل: محمد بن راشد ہاؤسنگ اسٹیبلشمنٹ کے تحت شروع کیے گئے ’’اپنا گھر کیسے بنائیں‘‘ پروگرام نے اماراتی شہریوں کی مالی منصوبہ بندی، تعمیراتی عمل کی سمجھ اور کئی عام غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پروگرام میں شریک شہریوں نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے تعمیرات کے ابتدائی مراحل میں محسوس ہونے والے دباؤ کو بھی کم کیا۔
یہ پروگرام اُن افراد کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جنہیں زمین کے ساتھ ایک ملین درہم کی مالی گرانٹ یا ہاؤسنگ لون ملا ہے۔ ان کا مشترکہ مقصد ایک حقیقت پسندانہ بجٹ کے تحت گھر تعمیر کرنا ہے۔
پروگرام کے تحت تعمیراتی ماڈلز اور فلور پلانز کے ساتھ ایک ہال میں شہریوں کو مدعو کیا گیا، جن میں کچھ مکمل منصوبوں کے ساتھ آئے جبکہ کچھ صرف سیکھنے کی نیت سے شامل ہوئے۔
دبئی کے رہائشی اور رئیل اسٹیٹ کنسلٹنٹ 33 سالہ حامد الشامسی نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’میں نے یہ پروگرام اس لیے جوائن کیا تاکہ خود سیکھ سکوں۔ ہم ہمیشہ سنتے تھے کہ کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں خود دیکھنا چاہتا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر لوگ تعمیراتی عمل کی مکمل معلومات کے بغیر ہی آغاز کر دیتے ہیں۔
شرکاء میں شامل مونا الزرعونی نے بتایا کہ ورکشاپ کے ذریعے انہیں گرانٹ کی منظوری سے لے کر میونسپلٹی اور کنٹریکٹر کے ساتھ کام کرنے تک کے تمام مراحل کا علم ہوا۔ ’’مجھے لگتا تھا گرانٹ کے بعد سب کچھ خود بخود ہو جائے گا، لیکن اب ہر قدم کی اہمیت سمجھ میں آئی ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
مونا نے بتایا کہ پروگرام نے یہ حقیقت واضح کی کہ اندرونی ڈیزائن اور کام کے لیے بجٹ میں 20 سے 30 فیصد اضافی رقم رکھنا ضروری ہے، جو پہلے کسی نے نہیں بتایا تھا۔ انہوں نے سمارٹ ہوم سسٹمز میں بھی دلچسپی ظاہر کی جو اگرچہ مہنگے ہیں، مگر طویل مدت میں بجلی کے بلوں میں کمی لاتے ہیں۔
دبئی کے رہائشی عبدالرحمن طارق التمیمی، جنہیں العویر میں زمین ملی، نے کہا کہ ورکشاپ نے ان کے خدشات کو کم کیا۔ ’’اب میں اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھ کر سیکھے گئے نکات پر بات کرنا چاہتا ہوں تاکہ مل کر منصوبہ بنائیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
پروگرام کی نشستیں دبئی کی نیو اکانومی اکیڈمی میں جاری ہیں جہاں بجٹ کی تیاری، کنٹریکٹر کا انتخاب، معاہدوں کا جائزہ، قرض کی نگرانی اور ویٹ ریفنڈ جیسے موضوعات پر لیکچرز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
ماہرین شرکاء کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ اپنے گھروں کے منصوبے ان سیشنز میں لا کر جائزہ لیں تاکہ ممکنہ غلطیوں کی اصلاح ہو سکے۔
انجینئر طارق الحمادی نے نشاندہی کی کہ کچھ عام غلط فہمیاں تعمیری اخراجات بڑھا دیتی ہیں، جیسے کہ بغیر معیار دیکھے کم ترین بولی کو قبول کرنا، دورانِ تعمیر ڈیزائن تبدیل کرنا، معاہدہ پڑھے بغیر دستخط کرنا، اور اہل خانہ کو عمل میں شامل نہ کرنا۔ انہوں نے کہا: ’’گھر بنانا زندگی کی منصوبہ بندی جیسا ہے، اگر علم سے کریں تو کم خرچ ہو سکتا ہے، بصورت دیگر اخراجات بڑھتے ہیں۔







