عالمی خبریں

کیا اسکرین ٹائم بچوں کی تخیل کو جِلا بخش سکتا ہے؟ دبئی کی ماہرین نے والدین کو نئی راہیں دکھا دیں

خلیج اردو
دبئی، 18 اپریل: بچوں کے لیے اسکرین ٹائم کو ہمیشہ نقصان دہ تصور کیا جاتا رہا ہے—چاہے وہ جسمانی ہو یا ذہنی صحت سے متعلق۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسے درست طریقے اور ارادے کے ساتھ استعمال کیا جائے، تو یہ تخیل کو دبانے کے بجائے اسے نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔

دبئی میں مقیم چارلوٹ ویلس، جو ایک کارپوریٹ ملازم اور فکرمند ماں ہیں، نے بتایا کہ وہ اپنے پانچ سالہ بیٹے کو صرف گیمز کھیلتے ہوئے دیکھ کر پریشان تھیں۔ "اتنی چھوٹی عمر میں ان کی ذہنی نشوونما بہت اہم ہوتی ہے۔ محض خاموشی سے اسکرین دیکھنا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو دباتا ہے۔ اسی لیے میں نے ایسے ایپس تلاش کرنے شروع کیے جو اسے مصروف رکھیں اور بات چیت پر مجبور کریں،” انہوں نے کہا۔

تعمیری ایپس سے مدد لیں:
ویلس تجویز کرتی ہیں کہ والدین ان ایپس پر توجہ دیں جو بچوں کو کچھ بنانے، سیکھنے یا تخلیق کرنے کا موقع دیتی ہیں، جیسے:

والدین بھی شامل ہوں:
والدین خود بھی ان تجربات میں شریک ہوں اور سوالات کریں جیسے: "تم نے یہ گھر اس طرح کیوں بنایا؟” یا "تمہارے کردار کی کہانی کیا ہے؟”

ٹی وی شوز کو تخیل کا ذریعہ بنائیں:
ماہرِ اطفال ناتھالیہ کنگ کہتی ہیں کہ جب اسکرین ٹائم ختم ہو، تو اسے ایک تخلیقی آغاز میں بدلا جا سکتا ہے۔ جیسے:

  • اگلی قسط میں کیا ہو سکتا ہے؟

  • کیا تم اس شو کے لیے نیا کردار بنا سکتے ہو؟

  • اگر تم اس کہانی میں ہوتے تو کیا کرتے؟

ناتھالیہ کنگ نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ یہی طریقہ آزماتی ہیں۔ "جب میرا بیٹا پپا پگ دیکھتا ہے، میں اس سے کہتی ہوں کہ اب ایک نیا انجام سوچو۔ اس نے ایک دن مجھے بتایا کہ پپا پگ خلا میں گئی اور برّیٹو کھائے!”

آن لائن ویڈیوز کو عملی سرگرمیوں میں بدلیں:
یوٹیوب کڈز یا پنٹیرسٹ جیسی ایپس پر نگرانی شدہ براؤزنگ سے بچے کارڈ بورڈ شہروں، کاسٹیومز یا سلائم بنانے جیسے تخلیقی کاموں میں مشغول ہو سکتے ہیں۔ "کسی ویڈیو کو دیکھ کر سلائم بنانے کا سامان اکٹھا کریں اور بچے کے ساتھ خود بنائیں،” کنگ تجویز کرتی ہیں۔

اپنی کہانی خود سنائیں:
کنگ مزید کہتی ہیں کہ ایسے ٹولز تلاش کریں جو بچوں کو کہانیاں بنانے کی اجازت دیں:

  • ٹونٹاسٹک 3D: بچے خود کردار بناتے ہیں اور ان کی آواز میں فلم بناتے ہیں۔

  • گیراج بینڈ: بڑے بچوں کے لیے، کہانی کو موسیقی میں ڈھالنے کا ذریعہ۔

  • پپٹ ماسٹر: بچوں کی بنائی گئی تصویروں کو حرکت دینے والی ایپ۔

مقصد کے ساتھ اسکرین ٹائم دیں:
اسکرین ٹائم کو واضح منصوبے کے ساتھ استعمال کریں، جیسے:

  • "چلو ایک ویڈیو دیکھتے ہیں جو ہمیں خوابوں کا بیڈروم بنانا سکھائے۔”

  • "آج ہم ٹیبلٹ پر کوکنگ شو کریں گے!”

  • "ایک خلائی جہاز ڈیزائن کرو اور بتاؤ اس میں کون رہتا ہے؟”

اسکرین کے بعد حقیقی دنیا میں تخلیق:
اگر ویڈیو میں ڈایناسور دکھائے گئے ہوں، تو تکیوں سے ان کی دنیا بنائیں۔ اگر کھیل فارم سے متعلق ہو، تو اپنے فارم کا خاکہ بنائیں۔

کنگ کہتی ہیں، "اسکرین اختتام نہیں، ابتدا ہے۔ اصل چیز یہ ہے کہ بچہ اس کے بعد ذہنی طور پر کہاں پہنچتا ہے۔”

اسکرین ٹائم کو خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جب اسے سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے، تو ڈیجیٹل ٹولز تجسس، کہانی سنانے، اور تخلیق کا نیا جہان کھول سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ "اسکرین ٹائم کیسے کم کریں؟” بلکہ یہ ہونا چاہیے، "اسے بہتر کیسے بنائیں؟” اور یہی سوچ سب کچھ بدل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button