
خلیج اردو
دبئی، 18 اپریل: اگر آپ اس ایسٹر پر خاندان کے ہمراہ مختصر سفر کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو یہ جان کر دلچسپی ہوگی کہ اس عرصے میں ہوائی کرائے عیدالفطر کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات میں ایسٹر سرکاری تعطیل نہیں، لیکن یورپی اور جنوبی ایشیائی تارکین وطن کی جانب سے اس دوران سفر کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ہوائی کرایوں میں کمی
انیس سے پچیس اپریل کے دوران دبئی سے ریاض کے لیے کم خرچ فضائی کمپنیوں جیسے فلائی ادیل اور فلائی ناس کے ذریعے براہِ راست پروازوں کے کرائے تقریباً پانچ سو چھیاسٹھ سے پانچ سو چھہتر درہم کے درمیان ہیں، جبکہ شارجہ سے ایئر عربیہ کے ذریعے سات سو اکتیس درہم تک پہنچتے ہیں۔
دبئی سے ممبئی کی براہِ راست پروازوں کے کرائے ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ پر آٹھ سو پینسٹھ سے نو سو بانوے درہم کے درمیان ہیں، جبکہ رابطہ پروازیں سات سو چونسٹھ درہم سے شروع ہوتی ہیں۔
دبئی سے بینکاک کے لیے ایمریٹس کی براہِ راست پرواز کا کرایہ تقریباً پندرہ ہزار چار سو پینتالیس درہم ہے، جبکہ شارجہ سے ایئر عربیہ کی پروازیں تین ہزار چار سو سڑسٹھ درہم سے شروع ہوتی ہیں۔ دبئی سے رابطہ پروازیں ایک ہزار سات سو اٹھارہ درہم میں دستیاب ہیں۔
لندن (گیٹوک ہوائی اڈہ) کے لیے ایمریٹس کی براہِ راست پروازیں پانچ ہزار دو سو پچپن درہم سے شروع ہو رہی ہیں، جبکہ برٹش ایئرویز سے ہییتھرو کے لیے کرایہ آٹھ ہزار پانچ سو پچاسی درہم ہے۔ رابطہ پروازیں تقریباً دو ہزار پانچ سو انچاس درہم سے شروع ہو رہی ہیں۔
دبئی سے نیو یارک (نیوآرک ہوائی اڈہ) کے لیے یونائیٹڈ ایئرلائنز کی براہِ راست پرواز تین ہزار دو سو پینتیس درہم سے شروع ہو رہی ہے، جبکہ ایمریٹس کی جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے کے لیے پرواز پچیس ہزار نو سو پچانوے درہم سے زیادہ ہے۔ رابطہ پروازیں پانچ ہزار پچھتر درہم سے دستیاب ہیں۔
ہوٹل نرخ اور سفر کے رجحانات
ایز مائی ٹرِپ ڈاٹ اے ای کے سربراہ ریکانت پٹی کے مطابق ہوٹل نرخوں میں پانچ سے دس فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم مسافر قیمت سے زیادہ قدر اور سہولت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ناشتہ شامل ہونا، مفت منسوخی، اور ہوائی اڈے سے ٹرانسفر جیسی سہولیات فیصلہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔
زیادہ تر ایسٹر کے سفر مختصر لیکن قدرے مہنگے یا غیر روایتی مقامات کی طرف ہو رہے ہیں، جبکہ مالی سہولت فراہم کرنے والے طریقے جیسے ’’اب بُک کریں، بعد میں ادائیگی کریں‘‘ بھی اخراجات کو منظم کرنے میں مددگار بن رہے ہیں۔
مقبول سیاحتی مقامات
اس سال جارجیا، آرمینیا اور آذربائیجان جیسے ویزا سے مستثنیٰ یا آسان ویزا والے ممالک زیادہ مقبول ہیں۔ یورپ کی جانب لندن، پیرس اور روم میں خاندانوں اور جوڑوں کی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ مالدیپ اور تھائی لینڈ جیسے پُرسکون مقامات بھی اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی طرف سیاحتی رجحان
ایسٹر کے دوران بھی متحدہ عرب امارات ایک اہم سیاحتی مرکز بنا ہوا ہے، خاص طور پر برطانیہ، جرمنی، روس اور برصغیر سے آنے والوں کے لیے۔ یہ موسم گرما سے پہلے کا درمیانی وقت ہے، جو یورپی سیاحوں کے لیے معتدل موسم فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح خطے کے اندر سعودی عرب اور کویت سے آنے والے افراد بھی خریداری، لگژری تجربات، اور خاندان دوست تفریحی سرگرمیوں کے لیے دبئی اور ابوظہبی کا رخ کر رہے ہیں، جو امارات کی سیاحت کو سال بھر جاری رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔







