
خلیج اردو
دبئی، 18 اپریل: دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پام جمیرا کے کسی ہوٹل تک صرف 10 منٹ میں پہنچنا یا ابوظہبی سے دبئی کا سفر آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کرنا، اب ایک خواب نہیں بلکہ بہت جلد حقیقت بننے جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں روایتی زمینی سفر، جو عام طور پر 90 منٹ یا اس سے زائد وقت لیتا ہے، یا ٹریفک کی شدت کے مطابق 30 سے 60 منٹ کے اندرونِ ریاستی سفر، بہت جلد ماضی کی بات ہو جائے گا۔
ابوظہبی میں آرچر ایوی ایشن اور دبئی میں جوبی ایوی ایشن کی جانب سے الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (eVTOL) طیاروں پر مبنی فضائی ٹیکسی سروسز کی تیاری جاری ہے، جن کے آغاز کی متوقع تاریخ 2025 کے اختتام یا 2026 کے اوائل میں رکھی گئی ہے۔
ان جدید فضائی ٹیکسیوں کے لیے مخصوص ’ورٹی پورٹس‘ (فضائی ٹرمینلز) کی تعمیر دبئی اور ابوظہبی میں تیزی سے جاری ہے، تاکہ مقررہ وقت پر سروس کا آغاز ممکن بنایا جا سکے۔
یہ نئی ٹیکنالوجی نہ صرف سفر کے دورانیے کو کم کرے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی سے پاک اور پائیدار سفری آپشن بھی مہیا کرے گی، جسے مستقبل کے شہری سفری نظام میں انقلابی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔







