
خلیج اردو
ابوظہبی: محکمہ تعلیم و علم نے اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک جرات مندانہ پالیسی متعارف کرائی ہے جو طلبہ کے ذاتی انتخاب، رجحانات اور موزوں راستوں کو روایتی معیار سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ یہ پالیسی ان پرانی روایات کو چیلنج کرتی ہے جن میں صرف نامور جامعات میں داخلے کو کامیابی کا معیار سمجھا جاتا تھا۔
خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ADEK کی ایجوکیشن پالیسی آفس کی ڈائریکٹر سلوی والڈ نے کہا کہ نئی ’کیرئیر اور یونیورسٹی گائیڈنس پالیسی‘ اس بات پر زور دیتی ہے کہ طلبہ کو ان کی اعلیٰ تعلیم، تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت، فوجی خدمات، کام یا حتیٰ کہ تعلیمی وقفے جیسے کسی بھی انتخاب میں مکمل معاونت فراہم کی جائے۔
پالیسی کا بنیادی تصور ’بیسٹ فٹ‘ یعنی طلبہ کے لیے موزوں ترین انتخاب کو ترجیح دینا ہے۔ والڈ کے مطابق، "ہم کامیابی کو اب اس پیمانے پر نہیں ناپتے کہ کتنے طلبہ ٹاپ 100 جامعات میں داخل ہوئے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنے طلبہ اپنی ٹاپ تھری ترجیحات میں شامل اداروں میں داخل ہوئے۔”
اس پالیسی کے تحت تمام اسکولوں کو 2026 تک کم از کم ایک فل ٹائم کیریئر اینڈ یونیورسٹی گائیڈنس کونسلر رکھنا ہوگا تاکہ ہر طالب علم کو ذاتی راہنمائی فراہم کی جا سکے۔
پالیسی میں ’طالبعلم کی خودمختاری‘ (student agency) کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی ہے، تاکہ والدین کی خواہشات کے زیر اثر فیصلوں کی بجائے، طلبہ کے ذاتی رجحانات کو اہمیت دی جا سکے۔ اگرچہ والدین کی شمولیت کو تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اسکول رہنماؤں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کی آواز کو بھی سنیں اور اسے فیصلوں کا حصہ بنائیں۔
ADEK نے اس پالیسی کی تیاری میں اسکولوں کو آغاز سے شامل کیا تاکہ یہ قابل عمل، منصفانہ اور تعلیمی نظام کی وسعتوں کے مطابق ہو۔ اس کا مقصد تمام طلبہ کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے، خواہ ان کے اسکول کی فیس یا سماجی پس منظر کچھ بھی ہو۔ والڈ نے امید ظاہر کی کہ اس پالیسی کے ذریعے والدین اور طلبہ کا اعتماد اسکولوں میں فراہم کردہ کیریئر راہنمائی پر بڑھے گا اور مہنگے نجی مشیروں پر انحصار کم ہوگا۔







