
خلیج اردو
دبئی: المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر زیرتعمیر جدید ترین زیرزمین ٹرین سسٹم مسافروں کی سفری سہولت کو بہتر بنانے اور پیدل چلنے کی مسافت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ انکشاف دبئی ایئرپورٹس کے سی ای او پال گریفتھس نے بدھ کے روز عربین ٹریول مارکیٹ میں گفتگو کے دوران کیا۔
پال گریفتھس کا کہنا تھا کہ 128 ارب درہم لاگت کے اس منصوبے میں ٹرین سسٹم کو جامع اور تیز رفتار بنایا جائے گا تاکہ وسیع رقبے پر پھیلے ایئرپورٹ پر منتقلی کے دوران وقت اور مشقت میں کمی آئے۔ ان کے مطابق، "یہ سفر 15 سے 20 منٹ تک کا ہو سکتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ ٹرین بیٹھنے کے لیے ہو اور اس میں تیزی و سہولت کو یقینی بنایا جائے۔”
پیشگی اعلان میں بتایا گیا تھا کہ نیا ایئرپورٹ دراصل آٹھ چھوٹے ایئرپورٹس پر مشتمل ہوگا، تاکہ ہر مسافر کو زیادہ ذاتی نوعیت کا سفری تجربہ مل سکے۔
منگل کے روز دبئی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے صدر، دبئی ایئرپورٹس کے چیئرمین اور ایمریٹس ایئرلائن کے سربراہ شیخ احمد بن سعید المکتوم نے تصدیق کی کہ DWC کے لیے معاہدوں کی منظوری کا آغاز ہو چکا ہے، اور تکمیل کے بعد یہ دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہوگا۔
پال گریفتھس نے بتایا کہ ایئرپورٹ کے لاونج میں بیٹھے مسافر ببل گلاس کے نیچے سے اپنے طیارے کو دیکھ سکیں گے، اور ممکنہ طور پر شیشے پر یہ بھی ظاہر کیا جائے گا کہ کون سا طیارہ کہاں جا رہا ہے۔ "ہم intimacy اور scale دونوں کا امتزاج پیدا کرنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر کے پورے ایئرپورٹ کے لاجسٹک نظام کو اس طرح ترتیب دیا جائے گا کہ مسافر تیزی سے اور آسانی کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (DXB) کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ آئندہ 10 برسوں میں DXB کی تمام پروازیں DWC پر منتقل ہو جائیں گی اور موجودہ علاقے کی از سرِ نو تعمیر کی جائے گی، جو کہ شہر کے شمال میں شارجہ سے متصل ہے۔ ان کے مطابق، اس سے ٹریفک کا بوجھ کم ہونے اور شہری حدود کے متوازن پھیلاؤ میں مدد ملے گی







