
خلیج اردو
اقوام متحدہ: متحدہ عرب امارات نے سوڈانی مسلح افواج کے نمائندے کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اس کے پلیٹ فارمز کو "غلط معلومات پھیلانے” کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ میں اماراتی مشن نے ایک سخت لہجے میں جاری بیان میں یہ موقف اختیار کیا۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب سوڈان کی جانب سے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (ICJ) میں دائر مقدمے میں امارات پر لگائے گئے الزامات کو متحدہ عرب امارات نے "گمراہ کن” اور "من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ یہ مقدمہ 10 اپریل کو ہیگ میں ICJ میں سماعت کے لیے پیش ہوا تھا۔
سوڈانی افواج نے متحدہ عرب امارات پر اس الزام کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہے کہ امارات نے ویسٹ دارفور میں مسالیت قبیلے کے خلاف ہونے والے حملوں کے دوران نسل کشی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی، حالانکہ ان الزامات کے لیے کوئی قانونی بنیاد یا شواہد موجود نہیں۔
امارات نے سلامتی کونسل کو ایک سرکاری خط میں واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ماہرین کی رپورٹ کے نتائج کو توڑ مروڑ کر SAF کی "ڈس انفارمیشن مہم” کو تقویت دینے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
29 اپریل کو اماراتی صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے اس مہم کو ایک "منظم جھوٹ پر مبنی مہم” قرار دیا جس کا مقصد امارات کو بدنام کر کے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شواہد سے محروم یہ مقدمہ دراصل سوڈانی افواج کی طرف سے اپنی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جن کی کارروائیوں نے ہزاروں جانیں لیں، لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور ملک میں قحط جیسے حالات پیدا کر دیے۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے فورمز کے غلط استعمال اور رپورٹوں کے مسخ ہونے سے بچانا چاہیے۔ ساتھ ہی زور دیا گیا کہ اصل توجہ جنگ بندی اور انسانی بحران کے حل پر مرکوز ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ میں امارات کے مستقل نمائندے محمد ابوشہاب نے اپنے خط میں کہا کہ SAF نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارمز کو جھوٹا پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کیا اور ماہرین کی خفیہ رپورٹوں کو عوامی سطح پر پیش کر کے سلامتی کونسل کے مانیٹرنگ عمل کو متاثر کیا۔
خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ماہرین کی رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ "متحدہ عرب امارات واضح طور پر اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس نے اپریل 2023 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد کسی بھی جنگجو فریق کو کوئی مدد یا سامان فراہم کیا ہو۔”
اماراتی مشن نے افسوس کا اظہار کیا کہ رپورٹ کی تاخیر سے اشاعت نے سوڈانی نمائندے کو موقع دیا کہ وہ اس کے مندرجات کو بار بار غلط انداز میں پیش کرے۔ مشن نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ایسی تاخیر سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
مزید برآں، متحدہ عرب امارات نے جنگ بندی اور سیاسی حل کی کوششوں کو جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ لندن سوڈان کانفرنس میں شرکت اور سویلین قیادت کی حکومت کی بحالی کے لیے اقدامات کو امارات نے ایک سنجیدہ پیش رفت قرار دیا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ گزشتہ دہائی میں متحدہ عرب امارات نے سوڈانی عوام کے لیے 3.5 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کی، جب کہ 2023 کی خانہ جنگی کے بعد 600 ملین ڈالر سے زیادہ کی انسانی امداد، 162 امدادی پروازوں کے ذریعے 12,000 ٹن سے زائد خوراک، ادویات اور دیگر سامان بھجوایا۔
محمد ابوشہاب نے خط کے اختتام پر کہا: "متحدہ عرب امارات سوڈانی عوام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا اور ایک پرامن، متحد اور پرامید مستقبل کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کو فروغ دیتا رہے گا۔







