متحدہ عرب امارات

راس الخیمہ: دھوکے سے کاروباری شراکت دار کو منشیات کیس میں پھنسانے والے شخص اور اس کی بیوی کو قید اور جرمانہ

خلیج اردو
راس الخیمہ — ایک کاروباری شخص "ایس.آر.” اور اس کی بیوی کو اپنے ایشیائی شراکت دار کو جھوٹے منشیات کیس میں پھنسا کر کاروبار پر مکمل قبضہ کرنے کی سازش کرنے پر دس، دس سال قید اور پچاس ہزار درہم جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے، جب کہ بیوی کے بھائی "اے.اے.” کو پندرہ سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ انکشاف ماہنامہ "العین الساہرة”، جو کہ راس الخیمہ پولیس جنرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے، میں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق "ایس.آر.” اور اس کا ایشیائی شراکت دار ایک کامیاب کاروبار چلا رہے تھے جو تیزی سے منافع دے رہا تھا۔ لالچ میں آ کر ایس.آر. کی بیوی نے اُسے شراکت دار کو ہٹانے اور تمام منافع خود رکھنے کا مشورہ دیا۔ ایس.آر. نے پھر اپنے سالے "اے.اے.” سے رابطہ کیا جو منشیات استعمال کرنے کے لیے جانا جاتا تھا، اور اُسے نشہ آور مواد حاصل کرنے کو کہا۔

اے.اے. نے منشیات حاصل کر کے شراکت دار کی گاڑی میں رکھ دی، اور بعد ازاں تینوں ملزمان نے پولیس کو اس کے خلاف اطلاع دے دی۔ انسدادِ منشیات فورس نے گاڑی کی تلاشی کے دوران مواد برآمد کیا اور ایشیائی شراکت دار کو گرفتار کر لیا۔

تاہم ابتدائی ٹیسٹ سے یہ ثابت ہوا کہ ملزم نے خود منشیات استعمال نہیں کی، جس پر تفتیشی افسران کو شک ہوا۔ مزید تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ایس.آر. اپنے ساتھی سے کاروبار ختم کرنا چاہتا تھا۔

جب ایس.آر. کو طلب کر کے اس سے پوچھ گچھ کی گئی تو اُس نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بیوی اور سالے کی مدد سے یہ سازش رچائی۔ بعد ازاں تینوں افراد کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں اُنہیں سخت سزائیں سنائی گئیں۔

یہ مقدمہ راس الخیمہ پولیس کی پیشہ ورانہ تفتیش اور کوششوں کے نتیجے میں بے نقاب ہوا، جس نے ایک بے گناہ شخص کو انصاف دلایا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button