
خلیج اردو
اسلام آباد — سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اعجاز چوہدری نے عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا اور وہ مبینہ سازش کا حصہ بھی تھے۔ تاہم، جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اگر اعجاز چوہدری کے خلاف کیس اتنا ہی مضبوط تھا تو انہیں فوجی عدالت میں بھیجا جاتا۔ انہوں نے مزید کہا، "ویسے بھی تو چھ سو افراد کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔”
جسٹس افغان نے واضح کیا کہ ضمانت کو سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی سینیٹر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اعجاز چوہدری 11 مئی 2023 سے زیر حراست ہیں۔
اعجاز چوہدری کی درخواست پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس نے بعد ازاں ضمانت منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔






